فقہ المسیح — Page 480
فقه المسيح 480 متفرق ایسی دعا میں مضائقہ نہیں بلکہ ثواب کا موجب ہے“ مسمریزم یا عمل الترب کے اثرات حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں : ( بدر 6 جون 1907 صفحہ 8) پٹنہ عظیم آباد کے رہنے والے ) ایک مولوی صاحب نے ایک روز مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ حضرت مسمریزم جو آج کل بہت مشہور ہے یہ کیا چیز ہے۔آیا اس میں کسی قسم کا اثر بھی ہے یا یوں ہی ایک بچوں کا کھیل تما شا اور وہم اور بے نتیجہ شے ہے؟ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: مولوی صاحب مسمریزم بہت عمدہ کارآمد چیز اور نتیجہ خیز بات ہے۔یوں تو کوئی شے بھی خدا نے عبث اور بے فائدہ نہیں بنائی رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا لیکن یہ مسمریزم تو بڑی کارآمد شے اور خاص اثر رکھتی ہے اور جیسا کہ اسلام نے اس کو لیا اور برتا اور فائدہ اُٹھایا ہے اور کسی مذہب یا کسی فرقہ نے فائدہ نہیں اُٹھایا۔حقیقت اور مغز اسلام کو میسر آیا اور قشر اور پوست دوسروں کے حصے میں گیا۔کہتے ہیں مسمر ایک انگریز کا نام ہے جس نے اس کو پھیلایا اور مشہور کیا ہے سواس واسطے اس کے نام پر مسمریزم نام شہرت پکڑ گیا ورنہ در اصل اس کا نام تربی علم ہے ترب مٹی کو کہتے ہیں اور مٹی سے انسان کی پیدائش ہے۔خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - میرا لڑکا سلطان احمد بھی ایک میز کہیں سے لے آیا تھا۔وہ بھی ہاتھ رکھنے سے حرکت کرتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں الہاما فرمایا کہ یہ عمل الترب ہے۔میسیج میں بھی یہ قوت تربی اچھی خاصی تھی۔ہمارے الہام میں ہے هذا هُوَ التَّرْبُ الَّذِى لَا يَعْلَمُهَا الْخَلْقُ یہ وہ عمل ترب ہے کہ مخلوق اس کی شناخت سے بے خبر ہے۔پہلے زمانے میں فقراء کے پاس تھا وہ اس کو پوشیدہ راز سمجھ کر کسی کو نہیں بتلایا کرتے تھے سوائے خاص لوگوں کے صرف ان میں ہی تھا کہ دوسرے شخصوں کو بے ہوش کر دیتے۔یہ ان کی کرامت ہوتی تھی مگر اب مسمریزم کے نام سے لوگ گھبراتے ہیں۔فقراء صوفیہ