فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 481 of 611

فقہ المسیح — Page 481

فقه المسيح 481 متفرق کی اصطلاح میں اس کا نام توجہ اور تصور ہے۔اگر کسی کو مسمریزم نام اچھا نہ معلوم ہو تو اس کو توجہ اور تصور کہہ سکتے ہیں۔غرض اسلام نے اس کو اس طرح سے لیا ہے کہ پہلے مصافحہ اور معانقہ کی صورت میں اگر چہ اوروں میں بھی مصافحہ اور معانقہ ہے لیکن بے اصل یوں ہی دل لگی کے طور سے۔پھر نماز با جماعت میں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نماز با جماعت میں مونڈھے سے مونڈھا اور پاؤں سے پاؤں ملا کر کھڑے ہو اور اپنے درمیان کچھ فاصلہ نہ رکھو کہ خالی جگہ شیطان داخل ہو جائے گا۔یہ اس بات کو ظاہر کیا کہ ایک شخص کی توجہ جسمانی اور روحانی دوسرے شخص میں سرایت کر جاوے۔جماعت میں جیسے جسمانی رنگ میں کوئی ضعیف اور کوئی قوی ہوتا ہے ،ایسا ہی روحانی اور باطنی کیفیات میں بھی ضعف و قوت کا فرق ہوتا ہے تو جب اس میں ایک دوسرے کے ملنے سے ایک دیوار کی طرح ہو جائیں گے اور مل کر کھڑے ہونے سے ایک دوسرے کی تاثیر اور فیوض اور جذب روحانی پھیل کر سب میں پہنچ جاوے گی۔جب پہلی صف اپنی قوت اور جذب روحانی سے پر ہو جائے گی تو پھر اس صف کا اثر دوسری صف پر پڑے گا اور پھر ان دونوں صفوں کا اثر تیسری پر پہنچے گا۔اس کے سمجھنے کے لئے بجلی کی مشین کی سی ہے جو آج کل نکلی ہے۔اگر اس بجلی کی مشین یا کل کو کوئی شخص ہاتھ میں پکڑے تو اس کا ہاتھ سُن ہو جائے گا اور چھوٹ نہیں سکے گا۔ایسا ہی اگر کوئی دوسرا شخص اس کا ہاتھ پکڑ لے تو اس پر بھی برقی اثر ہو جائے گا یہاں تک کہ اگر دس اور ہیں اور پچاس سو تک ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے جائیں تو وہ برقی اثر سب پر یکساں اثر کرتا چلا جائے گا۔اگر درمیان میں کچھ بھی فصل رہے گا تو برقی طاقت رُک جائے گی اور اس کی قوت جذب کام نہیں دے گی اور وہ جدائی جو واقعہ ہوئی ہے وہ اس برقی طاقت کو آگے نہیں چلنے دے گی اور روک ہو جائے گی۔اسی طرح اگر نماز کی صف میں کچھ فصل مل کر کھڑے ہونے میں ہوگا تو قوت روحانی یا اثر باطنی ایک دوسرے میں سے ہو کر آرہا تھا وہ رہ جائے گا۔اس کا نام اصطلاح شریعت میں شیطان رکھا ہے۔(تذکرۃ المہدی صفحہ 276 تا 278)