فقہ المسیح — Page 471
فقه المسيح 471 متفرق نشانوں کی قدر کرنی فرض سمجھتا ہوں کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت اور خود خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں اس وقت جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پڑھ لیا تو مجھے کہا گیا کہ اس تقریب پر چند دعائیہ شعر جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکریہ بھی ہولکھ دوں میں جیسا کہ ابھی کہا ہے کہ اصلاح کی فکر میں رہتا ہوں میں نے اس تقریب کو بہت ہی مبارک سمجھا اور میں نے مناسب جانا کہ اس طرح پر تبلیغ کر دوں۔تعظیم قبلہ الحکم 10 را پریل 1903 ءصفحہ 2 ) سوال ہوا کہ اگر قبلہ شریف کی طرف پاؤں کر کے سویا جاوے تو جائز ہے کہ نہیں؟ فرمایا: یہ نا جائز ہے کیونکہ تنظیم کے برخلاف ہے۔“ سائل نے عرض کی کہ احادیث میں اس کی ممانعت نہیں آئی۔فرمایا: ”یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔اگر کوئی شخص اسی بناء پر کہ حدیث میں ذکر نہیں ہے اور اس لیے قرآن شریف پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا کرے تو کیا یہ جائز ہو جاوے گا ؟ ہرگز نہیں۔وَمَنْ يُعَظِمُ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج:33) سورۃ فاتحہ کا دم حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں: (الحکم 31 جولائی 1904 صفحہ 14) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں سرساوہ سے چل کر قادیان شریف حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت مولانا مرشد نانورالدین صاحب خلیفہ امسیح علیہ السلام بھی آئے ہوئے تھے اور صبح کی نماز پڑھ کر بیٹھے تھے اور حضرت اقدس علیہ السلام بھی تشریف رکھتے تھے۔حضرت خلیفہ امسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ پیر صاحب بہت سے پیر