فقہ المسیح — Page 468
فقه المسيح 468 جن لوگوں کو ساری عمر میں تَعْلَمُوا نصیب نہ ہوان کی نماز ہی کیا ہے۔تکلف سے قرآن پڑھنے کی ناپسندیدگی متفرق البدر یکم مئی 1903 صفحہ 114) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایام مقدمات کرم دین میں حضور علیہ السلام کئی کئی روز تک گورداسپور میں ہی رہتے تھے کیونکہ روزانہ پیشی ہوتی تھی۔ایک مکان تحصیل کے سامنے جو تالاب ہے۔اس کے جنوب میں کرایہ پر لیا گیا تھا۔ایک روز حضور مکان کے اوپر کے حصہ میں تھے۔نیچے والے حصہ میں ایک شخص قرآن کریم تکلف کے لہجہ میں پڑھ رہا تھا ،سُن کر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ” یہ آواز کو ہی سنوارتا رہتا ہے۔گویا تکلف سے - قرآن کریم پڑھنے کو نا پسند فرمایا۔کلام پڑھ کر پھونکتا (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ (251) ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا کہ مجھے قرآن شریف کی کوئی آیت بتلائی جائے کہ میں پڑھ کر اپنے بیمار کو دم کروں تا کہ اُس کو شفاء ہو۔حضرت نے فرمایا: بے شک قرآن شریف میں شفاء ہے۔روحانی اور جسمانی بیماریوں کا وہ علاج ہے مگر اس طرح کا کلام پڑھنے میں لوگوں کو ابتلاء ہے۔قرآن شریف کو تم اس امتحان میں نہ ڈالو۔خدا تعالیٰ سے اپنے بیمار کے واسطے دعا کرو۔تمہارے واسطے یہی کافی ہے۔ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔صفحہ 146) قرآن شریف پڑھ کر بخشا ثابت نہیں فرمایا: ووو " مر دوں کو ثواب پہنچانے کے واسطے صدقہ و خیرات دینا چاہئے اور اُن کے حق میں