فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 462 of 611

فقہ المسیح — Page 462

فقه المسيح 462 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون اس وقت سے آپ نے سردی گرمی میں گرم کپڑے کا استعمال شروع فرما دیا تھا۔ان کپڑوں میں آپ کو گرمی بھی لگتی تھی اور بعض اوقات تکلیف بھی ہوتی تھی مگر جب ایک دفعہ شروع کر دیئے تو پھر آخر تک یہی استعمال فرماتے رہے۔اور جب سے شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ثم لاہوری احمدی ہوئے وہ آپ کے لئے کپڑوں کے جوڑے بنوا کر با قاعدہ لاتے تھے اور حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جیسا کپڑا کوئی لے آئے پہن لیتے تھے۔ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گر گابی لے آیا۔آپ نے پہن لی مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آپ کا اُلٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگا دیئے تھے مگر باوجود اس کے آپ اُلٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔اس لئے آپ نے اسے اتار دیا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب نے بعض اوقات انگریزی طرز کی قمیص کے کفوں کے متعلق بھی اسی قسم کے ناپسندیدگی کے الفاظ فرمائے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ صاحب موصوف آپ کے لئے انگریزی طرز کی گرم قیمص بنوا کر لایا کرتے تھے۔آپ انہیں استعمال تو فرماتے تھے مگر انگریزی طرز کی کفوں کو پسند نہیں فرماتے تھے۔کیونکہ اول تو کفوں کے بٹن لگانے سے آپ گھبراتے تھے۔دوسرے بٹنوں کے کھولنے اور بند کرنے کا التزام آپ کے لئے مشکل تھا۔بعض اوقات فرماتے تھے کہ یہ کیا کان سے لٹکے رہتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ لباس کے متعلق حضرت مسیح موعود کا عام اصول یہ تھا کہ جس قسم کا کپڑ امل جاتا تھا پہن لیتے تھے۔مگر عموما انگریزی طریق لباس کو پسند نہیں فرماتے تھے کیونکہ اول تو اسے اپنے لئے سادگی کے خلاف سمجھتے تھے۔دوسرے آپ ایسے لباس سے جو اعضاء کو جکڑا ہوا ر کھے بہت گھبراتے تھے۔گھر میں آپ کے لئے صرف ململ کے گرتے