فقہ المسیح — Page 461
فقه المسيح 461 امور معاشرت / رہن سہن ، باہمی تعاون کر دکھلائی تھی اور اس وقت بالوں کا ذکر تھا اور کئی بار فرمایا تھا کہ سر اور داڑھی کے بال منڈانا منافق کی علامت ہے۔پھر فرمایا کہ ہم کو بھی بال منڈانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ہمارے سر پر جو بال ہیں وہی ہیں جو عقیقہ کے دن اترے۔آپ کے بال نہایت نرم اور نازک مونڈھوں تک رہتے تھے جیسے حدیثوں میں مسیح موعود کی علامت ٹھہرائی ہے۔حضرت مسیح موعود کے مصافحہ کا طریق ( تذكرة المهدی صفحہ 32) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کبھی بھی کسی سے معانقہ کرتے نہیں دیکھا۔مصافحہ کیا کرتے تھے اور حضرت صاحب کے مصافحہ کرنے کا طریقہ ایسا تھا جو عام طور پر رائج ہے۔اہلحدیث والا مصافحہ نہیں کیا کرتے تھے۔لباس میں سادگی (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 718) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عموما دس گز لمبی ہوتی تھی۔پگڑی کے نیچے کلاہ کی جگہ نرم قسم کی رومی ٹوپی استعمال کرتے تھے اور گھر میں بعض اوقات پگڑی اتار کر سر پر صرف ٹوپی ہی رہنے دیتے تھے۔بدن پر گرمیوں میں عموما ململ کا کر تہ استعمال فرماتے تھے۔اس کے اوپر گرم صدری اور گرم کوٹ پہنتے تھے۔پاجامہ بھی آپ کا گرم ہوتا تھا۔نیز آپ عموما جراب بھی پہنے رہتے تھے بلکہ سردیوں میں دو دو جوڑے اوپر تلے پہن لیتے تھے۔پاؤں میں آپ ہمیشہ دیسی جوتا پہنتے تھے۔نیز بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب سے حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے۔