فقہ المسیح — Page 460
فقه المسيح 460 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون منافق یا یہود کی ہے مجھے یاد نہیں رہا کہ ان دونوں لفظوں میں سے حضور نے علامت منافق یا علامت یہود کونسا لفظ فرمایا مگر آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے ضرور تھے کہ منافق یا یہود۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک مجھے یاد ہے حضرت صاحب یہ فرمایا کرتے تھے کہ سر منڈانا خوارج کی علامت ہے اور اُسے نا پسند فرماتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 629، 630) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سر کے بال منڈوانے کو بہت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ خارجیوں کی علامت ہے۔نیز حضرت صاحب فرماتے۔ہے۔تھے کہ ہمارے سر کے بال عقیقہ کے بعد نہیں مونڈے گئے چنانچہ آپ کے سر کے بال نہایت باریک اور ریشم کی طرح ملائم تھے اور نصف گردن تک لمبے تھے لیکن آپ کی ریش مبارک کے بال سر کے بالوں کی نسبت موٹے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ جو میر صاحب نے بیان کیا ہے کہ حضرت صاحب کے بال نصف گردن تک لمبے تھے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ جس طرح ان لوگوں کے بال نظر آتے ہیں جنہوں نے پٹے رکھے ہوتے ہیں اس طرح آپ کے بال نظر آتے تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ گو آپ کے بال لمبے ہوتے تھے لیکن بوجہ اس کے کہ وہ نہایت نرم اور باریک تھے اور گھنے بھی نہ تھے وہ پیٹوں کی طرح نظر نہ آتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 383) حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ أَوِ التَّسْبِيدُ إِن ( منافقین کی) شناخت یہ ہے کہ ان کے سر کے بال منڈے ہوئے ہوں گے داڑھی بھی اسی میں شامل ہے۔یہ حدیث در اصل حضرت اقدس امام علیہ السلام نے دارالامان میں بخاری شریف سے نکال