فقہ المسیح — Page 459
فقه المسيح 459 امور معاشرت ، رہن سہن ر با ہمی تعاون نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیعت اولیٰ سے پہلے کا ذکر ہے کہ میں قادیان میں تھا۔فیض اللہ چک میں کوئی تقریب شادی یا ختنہ تھی۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مع چند خدام کے مدعو کیا گیا۔ان کے اصرار پر حضرت صاحب نے دعوت قبول فرمائی۔ہم دس بارہ آدمی حضور کے ہمراہ فیض اللہ چک گئے۔گاؤں کے قریب ہی پہنچے تھے کہ گانے بجانے کی آواز سُنائی دی جو اس تقریب پر ہو رہا تھا۔یہ آواز سنتے ہی حضور لوٹ پڑے۔فیض اللہ چک والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے آکر بہت التجاء کی مگر حضور نے منظور نہ فرمایا۔اور واپس ہی چلے آئے۔راستہ میں ایک گاؤں تھا مجھے اس کا نام اس وقت یاد نہیں۔وہاں ایک معزز سکھ سردار نی تھی۔اُس نے ہمنت حضور کی دعوت کی۔حضور نے فرمایا قادیان قریب ہی ہے۔مگر اس کے اصرار پر حضور نے اس کی دعوت قبول فرمالی۔اور اس کے ہاں جا کر سب نے کھانا کھایا۔اور تھوڑی دیر آرام کر کے حضور قادیان واپس تشریف لے آئے۔ہمراہیان کے نام جہاں تک یاد ہے یہ ہیں۔مرز امحمد اسماعیل صاحب شیر فروش ، حافظ حامد علی، علی بخش حجام جس نے عطاری کی دکان کی ہوئی تھی اور بھی چند آدمی تھے۔ٹنڈ کروانے کی ناپسندیدگی (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 49) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرم دین کے مقدمہ میں گورداسپور تشریف لے گئے تو ایک دن جبکہ آپ نے گورداسپور کی کچہری کے پاس جو جامن ہے اس کے نیچے ڈیرا لگایا ہوا تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب جنہوں نے اس وقت اپنے سر کی ٹنڈ کرائی ہوئی تھی۔اس جامن کے نیچے ٹہل رہے تھے۔حضرت صاحب نے جب خواجہ صاحب کا سر منڈا ہوا دیکھا تو اسے ناپسند فرمایا اور آئندہ کے لئے روکنے کے خیال سے فرمایا کہ یہ علامت