فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 611

فقہ المسیح — Page 448

فقه المسيح 448 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون کہ ” تمدن کے طور پر ہندوؤں کی چیز بھی کھا لیتے ہیں۔اسی طرح عیسائیوں کا کھانا بھی درست ہے مگر بایں ہمہ یہ خیال ضروری ہے کہ برتن پاک ہوں، کوئی ناپاک چیز نہ ہو۔“ (الحکم 17 جون 1901 صفحہ 4) ہندوؤں کے ہاتھ سے پکا ہوا کھانا ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا، ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا درست ہے؟ فرمایا: شریعت نے اس کو مباح رکھا ہے۔ایسی پابندیوں پر شریعت نے زور نہیں دیا بلکہ شریعت نے تو قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس: 10 ) پر زور دیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آرمینیوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں کھا لیتے تھے اور بغیر اس کے گزارہ بھی تو نہیں ہوتا۔ہند و رئیسہ کی دعوت اور نذر قبول کرنا (احکام 10 جون 1904 صفحہ 3) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں: (ایک) مقدمہ میں صاحب ڈپٹی کمشنر بہا در دورہ پر تھے، بمقام کارخانہ دھار یوال پیشی تھی اور رمضان کا مہینہ تھا۔تاریخ سے پہلے خیال تھا کہ کارخانہ دھاریوال کے قریب کسی جگہ ڈیرہ لگایا جائے تا کہ پیشی کے وقت تکلیف نہ ہو۔( قادیان سے آٹھ میل سفر تھا ) پہلے موضع لیل میں کوشش کی گئی لیکن افسوس کہ مسلمانانِ لیل نے انکار کر دیا۔بعدش موضع کھونڈا تجویز ہوگئی اور رانی ایشر کو ر صاحبہ جو موضع کھونڈا کی رئیسہ تھی اس نے حضرت اقدس کی تشریف آوری پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور اپنے مصاحبوں کو حضور علیہ السلام کے استقبال کے لئے آگے بھیجا اور اپنا عالی شان مکان صاف کرا کر رہائش کے لئے دے دیا اور اپنے مصاحبوں کے ذریعہ نذرانہ پیش کیا اور کہلا بھیجا کہ مجھے حضور کے آنے کی اس قدرخوشی ہوئی ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ سردار جیمل سنگھ صاحب سر گباش آگئے ہیں۔(سردار جیمل سنگھ صاحب رانی موصوفہ کے خسر تھے )