فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 611

فقہ المسیح — Page 449

فقه المسيح 449 امور معاشرت ، رہن سہن ر با ہمی تعاون اس رات کو رانی صاحبہ موصوفہ نے حضور علیہ السلام کو مع خدام پر تکلف دعوت دی حضور علیہ السلام نے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔اس واقعہ کے متعلق اخبار الحکم لکھتا ہے: (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 266، 267) رانی ایشر کور نے اپنے اہلکاروں کے ہاتھ ایک تھال مصری کا اور ایک باداموں کا بطور نذر پیش کیا اور کہلا بھیجا، بڑی مہربانی فرمائی۔میرے واسطے آپ کا تشریف لانا ایسا ہی ہے جیسے سردار جیمل سنگھ آنجہانی کا آنا۔حضرت اقدس نے نہایت سادگی اور اُس لہجہ میں جو ان لوگوں میں خدا دا د ہوتا ہے، فرمایا: ”اچھا آپ نے چونکہ دعوت کی ہے ہم یہ نذر بھی لے لیتے ہیں۔“ (الحام 31 جنوری 1899 ء صفحہ 7) ایک ہند وسا ہو کار کی طرف سے دی ہوئی دعوت میں شرکت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جالندھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریبا ایک ماہ قیام پذیر رہے۔بیعت اولیٰ سے تھوڑے عرصہ بعد کا یہ ذکر ہے۔ایک شخص جو ہندو تھا اور بڑا ساہوکار تھا۔وہ جالندھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں حضور کی مع تمام رفقاء کے دعوت کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے فورا دعوت قبول فرمالی۔اُس نے کھانے کا انتظام بستی باباخیل میں کیا اور بہت پر تکلف کھانے پکوائے۔جالندھر سے پیدل چل کر حضور مع رفقاء گئے۔اس سا ہو کار نے اپنے ہاتھ سے سب کے آگے دستر خوان بچھایا اور لوٹا اور سلا پیچی لے کر خود ہاتھ دھلانے لگا۔ہم میں سے کسی نے کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی نجات کا ذریعہ محض یہ سمجھا ہے کہ میری یہ ناچیز خدمت خدا قبول کر لے۔غرض بڑے اخلاص اور محبت سے وہ کھانا کھلاتا رہا۔کھانا کھانے کے بعد اُس نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ کیا خدا