فقہ المسیح — Page l
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری سچے دل سے نہ کی جاوے۔“ الحکم 31 جولائی، 10 اگست 1904 ء صفحہ 13 ) قرآن کریم نے اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُم کا جو حکم دیا ہے بعض لوگ اس کی یہ تشریح کرتے تھے کہ اللہ ، رسول اور اپنے حکام کی اطاعت کرنی چاہئے یعنی صرف مسلمان حکمران کی اطاعت کرنی جائز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی حکم کا حوالہ دے کر مِنكُمُ “ میں ان تمام حکمرانوں کو بھی شامل فرمایا جو خلاف شریعت حکم پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کرتے۔فرمایا: اولی الامر کی اطاعت کا صاف حکم ہے اور اگر کوئی کہے کہ گورنمنٹ مِنكُمُ “ میں داخل نہیں تو یہ اس کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو بات شریعت کے موافق کرتی ہے۔وہ مِنكُمُ میں داخل ہے۔جو ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ ہم میں داخل ہے۔اشارۃ النص کے طور پر قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی 66 اطاعت کرنی چاہئے اور اس کی باتیں مان لینی چاہئیں۔“ (رساله الانذار صفحہ 15- تقریر حضرت اقدس فرمودہ 2 مئی 1898ء - ملفوظات جلد 1 صفحہ 171 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد کی پاکیزہ تعلیم کی حقیقت واضح کرنے کے لئے تحریری اور تقریری ہر طرح سے زور دار کوششیں کیں۔خاص طور پر آپ نے ایک رسالہ لکھا گورنمنٹ انگریزی اور جہاؤ جو روحانی خزائن کی جلد 17 میں موجود ہے۔اس میں آپ نے جہاد کی تعلیم کی پوری تفصیل بیان فرمائی اور انگریزوں کے ساتھ جہاد کرنے اور ان کی حکومت کے خلاف باغیانہ روش اختیار کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی اور آپ نے اس مسئلہ کو اپنے منظوم میں بھی پیش فرمایا۔فرماتے ہیں: اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال 28