فقہ المسیح — Page xlix
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب میں خلافت بنوامیہ، بنوعباس اور عثمانی حکومتیں بڑے بڑے علاقوں پر حکومت کرتی تھیں اس دور میں مذہبی مسائل میں بھی بہت سی جگہوں پر بادشاہ وقت کا ذکر ہوتا تھا اور بعض مسائل میں امامت کا حق دار بادشاہ وقت کو قرار دیا جاتا تھا۔برصغیر پاک و ہند میں بھی مسلمان صدیوں تک حکمران رہے لیکن بعد میں پستی اور ذلت بھی دیکھنی پڑی۔چونکہ ماضی میں دار الاسلام“ اور ”دار الحرب جیسی اصطلاحیں رائج ہو چکی تھیں اس لئے برصغیر میں مسلمانوں کو اپنی حکومت نہ ہونے سے یہ احساس تھا کہ یہ دارالاسلام نہیں بلکہ دارالحرب ہے اور خصوصا 1857ء کے غدر کے پس منظر میں یہ غلط تصور بھی کارفرما تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو ہر قسم کی بغاوت، فساد، اور نافرمانی سے بچنے اور سچے دل سے حکومت وقت کی اطاعت کرنے کی تعلیم دی۔آپ نے یہ مسئلہ بار بار اور کھول کر واضح کیا کہ چونکہ انگریزی حکومت میں مسلمانوں کی نہ صرف جان و مال محفوظ ہے بلکہ مذہبی آزادی اور امن بھی حاصل ہے۔اس لئے اسلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کو ہر قسم کی بغاوت اور فساد سے بچنا چاہئے اور حکومت کے ساتھ پورا تعاون کرنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ میرے پانچ بڑے اصول ہیں۔ان اصولوں میں سے چوتھے اصول کی یوں تفصیل بیان فرمائی کہ یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جس کے ہم زیر سایہ ہیں یعنی گورنمنٹ انگلشیہ کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا اور خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔“ (كتاب البرية - روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 348) اسی طرح حکومت کی اطاعت کے بارہ میں فرمایا حکام کی اطاعت اور وفاداری ہر مسلمان کا فرض ہے۔وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہر قسم کی مذہبی آزادی ہمیں دے رکھی ہے۔میں اس کو بڑی بے ایمانی 27