فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 611

فقہ المسیح — Page 442

فقه المسيح 442 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون خاص خدا تعالیٰ کے نام پر ہے۔نسل افزائی ایک ضروری بات ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں انعام وغیرہ کو اپنی نعمتوں سے فرمایا ہے۔سو اس نعمت کا قدر کرنا چاہئے اور قدر میں نسل کا بڑھانا بھی ہے۔پس اگر ایسا نہ ہوتو پھر چار پائے کمزور ہوں گے اور دنیا کے کام بخوبی نہ چل سکیں گے اس لیے میرے نزدیک تو حرج کی بات نہیں۔ہر ایک عمل نیت پر موقوف ہے۔ایک ہی کام جب کسی غیر اللہ کے نام پر ہو تو حرام اور اگر اللہ کے لیے ہو تو حلال ہو جاتا ہے۔بدامنی کی جگہ پر احمدیوں کا کردار ( بدر یکم اگست 1907 ، صفحہ 12 ) ایک جگہ سے چنداحمدیوں کا ایک خط حضرت کی خدمت میں پہنچا کہ اس جگہ بدامنی ہے لوگ آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں۔کوئی پرسان نہیں۔چند ملاں ہم کو قتل کرنا چاہتے ہیں کیا آپ کی اجازت ہے کہ ہم بھی ان کو قتل کرنے کی کوشش کریں؟ حضرت نے فرمایا: ایسا مت کرو۔ہر طرح سے اپنی حفاظت کر ولیکن خود کسی پر حملہ نہ کرو۔تکالیف اُٹھاؤ اور صبر کرو۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ تمہارے لیے کوئی انتظام احسن کر دے۔جو شخص تقوی اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔تشبه بالكفار جائز نہیں (بدر 26 ستمبر 1907 ، صفحہ 6) ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہندوؤں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں ؟ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا: تخبہ بالکفار تو کسی ہی رنگ میں بھی جائز نہیں۔اب ہند و ماتھے پر ایک ٹیکہ سالگاتے ہیں کوئی وہ بھی لگالے۔یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندور رکھتے ہیں