فقہ المسیح — Page 439
فقه المسيح 439 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون مر دعورت اور بچے کو اس سے پورے طور پر خبر نہ تھی کہ نوح کا دعوی اور اس کے دلائل کیا ہیں۔جہاد میں جو فتوحات ہوئیں وہ سب اسلام کی صداقت کے واسطے نشان تھیں۔لیکن ہر ایک میں کفار کے ساتھ مسلمان بھی مارے گئے۔کا فرجہنم کو گیا اور مسلمان شہید کہلایا۔ایسا ہی طاعون ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان ہے اور ممکن ہے کہ اس میں ہماری جماعت کے بعض آدمی بھی شہید ہوں۔ہم خدا تعالیٰ کے حضور دعا میں مصروف ہیں کہ وہ ان میں اور غیروں میں تمیز قائم رکھے لیکن جماعت کے آدمیوں کو یا درکھنا چاہئے کہ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ ہماری تعلیم پر عمل نہ کیا جاوے۔سب سے اول حقوق اللہ کو ادا کرو۔اپنے نفس کو تمام جذبات سے پاک رکھو۔اس کے بعد حقوق عبادکو ادا کرو اور اعمال صالحہ کو پورا کرو۔خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ اور تضرع کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے رہو اور کوئی دن ایسا نہ ہو جس دن تم نے خدا تعالیٰ کے حضور رو کر دعا نہ کی ہو۔اس کے بعد ا سباب ظاہری کی رعایت رکھو۔جس مکان میں چوہے مرنے شروع ہوں اس کو خالی کر دو۔اور جس محلہ میں طاعون ہو اس محلہ سے نکل جاؤ اور کسی کھلے میدان میں جا کر ڈیرا لگاؤ۔جو تم میں سے بتقدیر الہی طاعون میں مبتلا ہو جاوے اس کے ساتھ اور اس کے لواحقین کے ساتھ پوری ہمدردی کرو اور ہر طرح سے اس کی مدد کرو اور اس کے علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھو لیکن یادر ہے کہ ہمدردی کے یہ معنے نہیں کہ اس کے زہریلے سانس یا کپڑوں سے متاثر ہو جاؤ بلکہ اس اثر سے بچو۔اُسے کھلے مکان میں رکھو اور جو خدانخواستہ اس بیماری سے مرجائے وہ شہید ہے۔اس کے واسطے ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا کفن پہنانے کی ضرورت ہے۔اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہو سکے تو ایک سفید چادر اس پر ڈال دو اور چونکہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہریلا اثر زیادہ ترقی پکڑتا ہے اس واسطے سب لوگ اس کے ارد گرد جمع نہ ہوں۔حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چار پائی کو اُٹھا ئیں اور باقی سب دور کھڑے ہو کر