فقہ المسیح — Page 440
فقه المسيح 440 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون مثلاً ایک سو گز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔جنازہ ایک دُعا ہے اور اس کے واسطے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر پر کھڑا ہو۔جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور میں سامان ہو سکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر میت کو لاد کر لے جاویں اور میت پر کسی قسم کی جزع فزع نہ کی جاوے۔خدا تعالیٰ کے فعل پر اعتراض کرنا گناہ ہے۔اس بات کا خوف نہ کرو کہ ایسا کرنے سے لوگ تمہیں بُرا کہیں گے وہ پہلے کب تمہیں اچھا کہتے ہیں۔یہ سب باتیں شریعت کے مطابق ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ آخر کار وہ لوگ جو تم پر ہنسی کریں گے خود بھی ان باتوں میں تمہاری پیروی کریں گے۔مکررا یہ بہت تاکید ہے کہ جو مکان تنگ اور تاریک ہو اور ہوا اور روشنی خوب طور پر نہ آسکے اس کو بلا توقف چھوڑ دو کیونکہ خود ایسا مکان ہی خطرناک ہوتا ہے گوکوئی چوہا بھی اس میں نہ مرا ہو اور حتی المقدور مکانوں کی چھتوں پر رہو۔نیچے کے مکان سے پر ہیز کرو اور اپنے کپڑوں کو صفائی سے رکھو۔نالیاں صاف کراتے رہو۔سب سے مقدم یہ کہ اپنے دلوں کو بھی صاف کرو اور خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری صلح کرلو۔نشان کے پورا ہونے پر دعوت دینا جائز ہے (بدر 4 را پریل 1907 ، صفحہ 6،5) خان صاحب عبدالحمید نے کپورتھلہ سے حضرت کی خدمت میں ڈوئی کے شاندار نشان کے پورا ہونے کی خوشی پر دوستوں کو دعوت دینے کی اجازت حاصل کرنے کے واسطے خط لکھا۔حضرت نے اجازت دی اور فرمایا: " تحديث بالنعمة کے طور پر ایسی دعوت کا دینا جائز ہے۔“ ( بدر 28 مارچ 1907 صفحہ 4)