فقہ المسیح — Page 434
فقه المسيح 434 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون افسوس ہے کہ ہم پوری طرح سے آپ کے ساتھ اخلاق حسنہ کا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کی قومی رسم کے مطابق ہمارا کھانا کھا لینا جائز نہیں۔ایسے ہندو مہمانوں کے کھانے کا انتظام ہم کسی ہندو کے ہاں کر لیا کرتے ہیں لیکن اس کھانے کی ہم خود نگرانی نہیں کر سکتے۔ہمارے اصول میں داخل نہیں کہ اختلاف مذہبی کے سبب کسی کے ساتھ بد خلقی کریں اور بدخلقی مناسب بھی نہیں کیونکہ نہایت کار ہمارے نزدیک غیر مذہب والا ایک بیمار کی مانند ہے جس کو صحت روحانی حاصل نہیں۔پس بیمار تو اور بھی قابلِ رحم ہے جس کے ساتھ بہت خلق اور حلم اور نرمی کیساتھ پیش آنا چاہئے۔اگر بیمار کے ساتھ بدخلقی کی جاوے تو اس کی بیماری اور بھی بڑھ جائے گی۔اگر کسی میں کجی اور غلطی ہے تو محبت کے ساتھ سمجھانا چاہیے۔ہمارے بڑے اصول دو ہیں۔خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق صاف رکھنا اور اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاق سے پیش آنا۔ہندوؤں سے ہمدردی ( بدر 19 جولائی 1906 ، صفحہ 3) ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ بہ سبب پرانے تعلقات کے ایک ہندو ہمارے شہر کا ہمارے معاملات شادی اور نفی میں شامل ہوتا ہے اور کوئی مرجائے تو جنازہ میں بھی ساتھ جاتا ہے۔کیا ہمارے واسطے بھی جائز ہے کہ ہم ان کے ساتھ ایسی شمولیت دکھائیں؟ فرمایا: ”ہندوؤں کی رسوم اور امور مخالف شریعت اسلام سے علیحدگی اور بیزاری رکھنے کے بعد دنیوی امور میں ہمدردی رکھنا اور ان کی امداد کرنا جائز ہے۔“ اہل کتاب کا کھانا ( بدر 6 جون 1907 صفحہ 8) امریکہ اور یورپ کی حیرت انگیز ایجادات کا ذکر ہو رہا تھا۔اسی میں یہ ذکر بھی آ گیا کہ