فقہ المسیح — Page 435
فقه المسيح 435 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون دودھ اور شور با وغیرہ جو کہ ٹینوں میں بند ہوکر ولایت سے آتا ہے بہت ہی نفیس اور ستھرا ہوتا ہے اور ایک خوبی ان میں یہ ہوتی ہے کہ ان کو بالکل ہاتھ سے نہیں چھوا جاتا۔دودھ تک بھی بذریعہ مشین دوہا جاتا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا: چونکہ نصاری اس وقت ایک ایسی قوم ہو گئی ہے جس نے دین کی حدود اور اس کے حلال و حرام کی کوئی پروا نہیں رکھی اور کثرت سے سور کا گوشت اُن میں استعمال ہوتا ہے اور جو ذبح کرتے ہیں اس پر بھی خدا کا نام ہرگز نہیں لیتے بلکہ جھٹکے کی طرح جانوروں کے سر جیسا کہ سنا گیا ہے علیحدہ کر دیے جاتے ہیں۔اس لیے شبہ پڑ سکتا ہے کہ بسکٹ اور دودھ وغیرہ جو اُن کے کارخانوں کے بنے ہوئے ہوں اُن میں سور کی چربی اور سور کے دودھ کی آمیزش ہو۔اس لیے ہمارے نزدیک ولائتی بسکٹ اور اس قسم کے دودھ اور شور بے وغیرہ استعمال کرنے بالکل خلاف تقویٰ اور نا جائز ہیں۔جس حالت میں کہ سور کے پالنے اور کھانے کا عام رواج ان لوگوں میں ولایت میں ہے تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسری اشیائے خوردنی جو کہ یہ لوگ تیار کر کے ارسال کرتے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حصہ اس کا نہ ہوتا ہو۔اس پر ابوسعید صاحب المعروف عرب صاحب تاجر برنج رنگون نے ایک واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں یوں عرض کیا کہ رنگون میں بسکٹ اور ڈبل روٹی بنانے کا ایک کارخانہ انگریزوں کا تھا۔وہ ایک مسلمان تاجر نے قریب ڈیڑھ لاکھ روپے کے خرید لیا۔جب اس نے حساب و کتاب کی کتابوں کو پڑتال کر کے دیکھا، تو معلوم ہوا کہ سور کی چربی بھی اس کا رخانہ میں خریدی جاتی رہی ہے۔دریافت پر کارخانہ والوں نے بتایا کہ ہم اُسے بسکٹ وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں۔کیونکہ اس کے بغیر یہ چیزیں لذیذ نہیں ہوتیں اور ولایت میں بھی یہ چربی ان چیزوں میں ڈالی جاتی ہے۔اس واقعہ کے سننے سے ناظرین کو معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود کا خیال کس قدر تقوی اور باریک بینی پر تھا لیکن چونکہ ہم میں سے بعض ایسے بھی تھے جن کو اکثر سفر کا