فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xlviii of 611

فقہ المسیح — Page xlviii

حرف آغاز سمجھوں اور نمازوں میں قصر کے متعلق کس بات پر عمل کروں؟ فرمایا حكم عدل کا فقہی اسلوب ”میرا مذ ہب یہ ہے کہ انسان بہت دقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں ، خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو۔اس میں قصر وسفر کے مسائل پر عمل کرے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں، مگر کسی کے دل میں خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھری اُٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔شریعت کی بنا دقت پر نہیں ہے۔جس کو تم عرف میں سفر سمجھو، وہی سفر ہے۔“ الحکم 17 رفروری 1901 ءصفحہ 13 ) اسی طرح خرید و فروخت کے معاملات میں بھی عرف کا خیال رکھنا ضروری ہے جو مروجہ قانون ہو اور سب لوگ اس پر عمل کر رہے ہوں اور کوئی لڑائی جھگڑا بھی نہ ہو تو اس عرف پر بھی عمل کرنا چاہئے۔ایک شخص نے سوال کیا کہ ریلی برادرز وغیرہ کارخانوں میں سرکاری سیراتی روپیہ کا دیتے ہیں اور لیتے اکاسی روپیہ کا ہیں کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا جن معاملات بیع و شراء میں مقدمات نہ ہوں ، فسادنہ ہوں تراضی فریقین ہو اور سر کا ر نے بھی جرم نہ رکھا ہو عرف میں جائز ہو وہ جائز ہے۔“ (الحکم 10 اگست 1903 صفحہ 19) 14۔حکومت وقت کی اطاعت کی تعلیم مسلمانوں کے جس ادبار اور پستی کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے اس دور میں مسلمان سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، ہر لحاظ سے پسماندہ ہو چکے تھے۔اپنے سابقہ شاندار ماضی کو یاد کرتے ہوئے محکومی اور کمزوری ان کے لئے بھاری ہو رہی تھی۔جس دور 26 26