فقہ المسیح — Page xlvii
حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب ہے کہ گھوڑا کھل گیا ہو تو اُسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے۔ کیونکہ وقت کے اندر نماز تو پھر بھی پڑھ سکتا ہے۔“ وو 66 البدر 24 نومبر، یکم دسمبر 1904 ء صفحہ 4) سونے چاندی اور ریشم کا ضرور تا استعمال تو معروف مسئلہ ہے۔ اسی حوالے سے آپ سے سوال کیا گیا کہ چاندی وغیرہ کے بٹن استعمال کئے جاویں؟ اس پر آپ نے فرمایا تین ، چار ماشہ تک تو حرج نہیں لیکن زیادہ کا استعمال منع ہے۔ اصل میں سونا چاندی عورتوں کی زینت کے لیے جائز رکھا ہے۔ ہاں علاج کے طور پر ان کا استعمال منع نہیں۔ جیسے کسی شخص کو کوئی عارضہ ہو اور چاندی سونے کے برتن میں کھانا طبیب بتلاوے تو بطور علاج کے صحت تک وہ استعمال کر سکتا ہے۔ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس آیا۔ اُسے جوئیں بہت پڑی ہوئی تھیں ۔ آپ نے حکم دیا کہ تو ریشم کا کرتہ پہنا کر اس سے جوئیں نہیں پڑتیں۔ (ایسے ہی خارش والے کے لیے ریشم کا لباس مفید ہے ) ۔“ صلى الله البدر 24 اگست 1904 ء صفحہ (8) 13 - عُرف کا خیال رکھنا ضروری هے احکام شریعت میں موقع ومحل کی رعایت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور بہت سے ایسے مسائل ہیں کہ اگر ان میں معروضی حالات کو مد نظر نہ رکھا جائے تو احکام شریعت پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مثلاً شریعت نے بیمار اور مسافر کے لئے روزہ رکھنے میں رخصت دی ہے تاہم بیماری کی تفاصیل اور سفر کی حدود کا ذکر نہیں کیا ۔ اسی طرح سفر میں نماز قصر کرنے کی اجازت دی ہے لیکن سفر کی حد بیان نہیں فرمائی ۔ اس بارہ میں فقہاء کی آراء کی روشنی میں یہ بحثیں ہوتی تھیں کہ کتنا سفر ہو تو سفر کہلائے گا ۔ حضرت مسیح موعود نے عُرف کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مسئلہ بڑی آسانی سے حل فرما دیا۔ ایک شخص نے پوچھا کہ مجھے دس پندرہ کوس تک اِدھر اُدھر جانا پڑتا ہے۔ میں کس کو سفر 25