فقہ المسیح — Page xlvi
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب اسی طرح آپ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ میرا بھائی فوت ہو گیا ہے میں اس کی قبر یگی بناؤں یا نہ بناؤں؟ اس پر آپ نے فرمایا اگر نمود اور دکھلاؤ کے واسطے پکی قبریں اور نقش و نگار اور گنبد بنائے جاویں تو یہ حرام ہیں لیکن اگر خشک ملا کی طرح یہ کہا جاوے کہ ہر حالت اور ہر مقام میں کچی ہی اینٹ لگائی جاوے تو یہ بھی حرام ہے۔اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ عمل نیت پر موقوف ہیں۔“ ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 253) 12- اشد ضرورتوں میں حکم بدل جاتے ہیں شریعت نے جہاں ہمیں زندگی کے ہر اہم پہلو کے لئے مفصل تعلیم دی ہے وہاں انسانی مجبوریوں اور معذوریوں کا بھی لحاظ رکھا ہے اور اضطرار کے حالات میں رعایت اور سہولت کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔افریقہ سے ڈاکٹر محمد علی خان صاحب نے استفسار کیا کہ اگر ایک احمدی بھائی نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اس کا افسر آ جائے اور دروازہ کو ہلا ہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یا دوائی خانہ کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں کیا کرنا چاہئے ؟ اسی وجہ سے ایک شخص نوکری سے محروم ہو کر ہندوستان واپس چلا گیا ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھول کر چابی افسر کو دے دیتا۔( یہ ہسپتال کا واقعہ ہے۔اس لئے فرمایا ) کیونکہ اگر اس کے التواء سے کسی آدمی کی جان چلی جاوے تو یہ سخت معصیت ہوگی۔احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں چل کر دروازہ کھول دیا جاوے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ایسے ہی اگرلڑ کے کو کسی خطرہ کا اندیشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جو نظر پڑتا ہو ضرر پہنچتا ہو تو لڑکے کو بچانا اور جانور کو ماردینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ بعضوں نے یہ بھی لکھا 24