فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 611

فقہ المسیح — Page 412

فقه المسيح نیز فرمایا: 412 بدعات اور بد رسومات ان لوگوں نے ) اپنی شامت اعمال کو نہیں سوچا اُن اعمال خیر کو جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے ، ترک کر دیا اور ان کی بجائے خود تراشیدہ درود و وظائف داخل کر لیے اور چند کا فیوں کا حفظ کر لینا کافی سمجھا گیا۔بلھے شاہ کی کافیوں پر وجد میں آ جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کے قرآن شریف کا جہاں وعظ ہو رہا ہو وہاں بہت ہی کم لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن جہاں اس قسم کے مجمعے ہوں وہاں ایک گروہ کثیر جمع ہو جاتا ہے۔نیکیوں کی طرف سے یہ کم رغبتی اور نفسانی اور شہوانی امور کی طرف توجہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ لذت روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھا۔دیکھا گیا ہے کہ بعض ان رقص و سرود کی مجلسوں میں دانستہ پگڑیاں اُتار لیتے ہیں اور کہ دیتے ہیں کہ میاں صاحب کی مجلس میں بیٹھتے ہی وجد ہو جاتا ہے۔اس قسم کی بدعتیں اور اختراعی مسائل پیدا ہو گئے ہیں اصل بات یہ کہ جنہوں نے نماز سے لذت نہیں اُٹھائی اور اس ذوق سے محروم ہیں۔وہ روح کی تسلی اور اطمینان کی حالت ہی کو نہیں سمجھ سکتے اور نہیں جانتے کہ وہ سرور کیا ہوتا ہے۔مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو اس قسم کی بدعتیں مسلمان کہلا کر نکالتے ہیں۔اگر روح کی خوشی اور لذت کا سامان اس میں تھا تو چاہیے تھا کہ پیغمبر خدا ہے جو عارف ترین اور اکمل ترین انسان دنیا میں تھے ، وہ بھی اس قسم کی کوئی تعلیم دیتے یا اپنے اعمال سے ہی کچھ کر دکھاتے۔میں ان مخالفوں سے جو بڑے بڑے مشائخ اور گدی نشین اور صاحب سلسلہ ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درود، وظائف اور چلہ کشیاں، اُلٹے سیدھے لٹکنا بھول گئے تھے ؟ اگر معرفت اور حقیقت شناسی کا یہی ذریعہ اصل تھے۔مجھے بہت ہی تعجب آتا ہے کہ ایک طرف قرآن شریف میں یہ پڑھتے ہیں اَليَومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدة :4) اور دوسری طرف اپنی ایجا دوں اور بدعتوں سے اس تکمیل کو تو ڑ کر ناقص