فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 611

فقہ المسیح — Page 405

فقه المسيح 405 بدعات اور بد رسومات ایک شخص نے پوچھا کہ تسبیح کرنے کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہے اور وہ اس گنتی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا تو وہ گنتی پوری کرے اور یا توجہ کرے اور یہ صاف بات ہے کہ گنتی کو پوری کرنے کی فکر کرنے والا سچی توبہ کر ہی نہیں سکتا۔انبیاء علیہم السلام اور کاملین لوگ جن کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذوق ہوتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے عشق میں فنا شدہ ہوتے ہیں انھوں نے گنتی نہیں کی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی۔اہل حق تو ہر وقت خدا تعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ان کے لیے گنتی کا سوال اور خیال ہی بیہودہ ہے۔کیا کوئی اپنے محبوب کا نام گن کر لیا کرتا ہے؟ اگر سچی محبت اللہ تعالیٰ سے ہو اور پوری توجہ الی اللہ ہو تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ پھر گنتی کا خیال پیدا ہی کیوں ہوگا۔وہ تو اسی ذکر کو اپنی روح کی غذا سمجھے گا اور جس قدر کثرت سے کرے گا۔زیادہ لطف اور ذوق محسوس کرے گا اور اس میں اور ترقی کرے گا۔لیکن اگر محض گنتی مقصود ہوگی تو وہ اسے ایک بیگار سمجھ کر پورا کرنا چاہے گا۔(الحکم 10 جون 1904 صفحہ 3) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ ایک دفعہ کوئی شخص حضرت صاحب کے لئے ایک تسبیح تحفہ لایا۔وہ تہی آپ نے مجھے دے دی اور فرمایا : لو اس پر درود شریف پڑھا کرو۔وہ تسبیح بہت خوبصورت تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ تسبیح کے استعمال کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر پسند نہیں فرماتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 166) سورہ فاتحہ کے تعویذ کی برکت حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں: حضرت اقدس کبھی تعویذ آج کل کے درویشوں فقیروں مولویوں کی طرح سے نہیں لکھتے تھے