فقہ المسیح — Page 395
فقه المسيح 395 بدعات اور بد رسومات ، یا عمر نہیں کہتے البتہ یا علی کہنے والے ان کے بھائی موجود ہیں یہ شرک ہے کہ ایک تخصیص بلا وجہ کی جاوے۔جب خدا کے سوا کسی چیز کی محبت بڑھ جاتی ہے تو پھر انسان صُمٌ وبُكُمْ ہو جاتا ہے جو اسلام کے خلاف ہے۔اسلام تو حید کے لئے آیا ہے جب تو حید کے خلاف چلے تو پھر مسلمان کیسا؟ تعجب کی بات ہے کہ جن لوگوں کو یہ خدا کا حصہ دار بناتے ہیں خودان کو بھی یہ مقام تو حید ہی کے ماننے سے ملا تھا۔اگر وہ بھی ایسے "یا" کہنے والے ہوتے تو ان کو یہ مقام ہرگز نہ ملتا بلکہ انہوں نے خدائے تعالیٰ کی اطاعت اختیار کی تب یہ رتبہ ان کو ملا یہ لوگ شیعوں اور عیسائیوں کی طرح ایک قسم کا شرک کرتے ہیں۔مولود خوانی ایک شخص نے مولود خوانی پر سوال کیا۔فرمایا: الحکم 10 مارچ 1904 ءصفحہ 12 ) آنحضرت ﷺ کا تذکرہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ اولیاء اور انبیاء کی یاد سے رحمت نازل ہوتی ہے اور خود خدا نے بھی انبیاء کے تذکرہ کی ترغیب دی ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی بدعات مل جاویں جن سے توحید میں خلل واقع ہو تو وہ جائز نہیں۔خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان نبی کے ساتھ رکھو۔آج کل کے مولودوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہوتے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشاء کے خلاف ہیں۔اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تو وہ ایک وعظ ہے۔آنحضرت ﷺ کی بعثت ، پیدائش اور وفات کا ذکر ہو تو موجب ثواب ہے۔ہم مجاز نہیں ہیں کہ اپنی شریعت یا کتاب بنالیویں۔بعض ملاں اس میں غلو کر کے کہتے ہیں کہ مولود خوانی حرام ہے۔اگر حرام ہے تو پھر کس کی پیروی کرو گے؟ کیونکہ جس کا ذکر زیادہ ہو اس سے محبت بڑھتی ہے اور پیدا ہوتی ہے۔مولود کے وقت کھڑا ہو نا جائز نہیں۔ان اندھوں کو اس بات کا علم ہی کب ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روح آگئی ہے بلکہ ان مجلسوں میں تو طرح طرح کے بدطینت اور بدمعاش