فقہ المسیح — Page 394
فقه المسيح 394 بدعات اور بد رسومات سلامتی کا وعدہ دیا جاوے اور وہ ایک نشان ہو اور دوسرے لوگ مرتے رہیں؟ میں کہتا ہوں اسی ایک بات کو لیکر کوئی شخص انصاف کرے اور بتادے کہ کیا ہو سکتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افترا کرے وہ سلامت رہے اور اس کو یہ وعدہ دیا جائے کہ تیرے گھر میں جو ہوگا وہ بھی بچایا جاوے گا اور دوسروں پر چھری چلتی رہے؟ یا شیخ عبد القادر جیلانی کہنا کیسا ہے؟ (الحکم 10 جون 1904 صفحہ 3) سوال :۔یا شیخ عبدالقادر جیلانی شَيْئًا لِلہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب :۔ہرگز نہیں یہ تو حید کے برخلاف ہے۔سوال :۔جبکہ غائب اور حاضر دونوں کو خطاب کر لیتے ہیں پھر اس میں کیا حرج ہے؟ جواب:۔دیکھو بٹالہ میں لوگ زندہ موجود ہیں اگر ان کو یہاں سے آواز دو تو کیا وہ کوئی جواب دیتا ہے پھر بغداد میں سید عبدالقادر جیلانی کی قبر پر جا کر آواز دو تو کوئی جواب نہیں آئے گا خدا تعالیٰ تو جواب دیتا ہے جیسا کہ فرمایا اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن:61) مگر قبروں والوں میں سے کون جواب دیتا ہے پھر کیوں ایسا فعل کرے جو تو حید کے خلاف ہے۔سوال :۔جب کہ یہ لوگ زندہ ہیں پھر ان کو مردہ تو نہیں کہہ سکتے۔جواب :۔زندگی ایک الگ امر ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہماری آواز بھی سن لیں یہ ہم مانتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کے نزدیک زندہ ہیں مگر ہم نہیں مان سکتے کہ ان کو سماع کی قوت بھی ہے حاضر ناظر ہونا ایک الگ صفت ہے جو خدا ہی کو حاصل ہے دیکھو ہم بھی زندہ ہیں مگر لا ہو ریا امرتسر کی آوازیں نہیں سن سکتے۔خدا تعالیٰ کے شہید اور اولیاء اللہ بیشک خدا کے نزدیک زندہ ہوتے ہیں مگر ان کو حاضر ناظر نہیں کہہ سکتے۔دعاؤں کے سننے والا اور قدرت رکھنے والا خدا ہی ہے اس کو یقین کرنا یہی اسلام ہے جو اس کو چھوڑتا ہے وہ اسلام کو چھوڑتا ہے پھر کس قدر قابل شرم یہ امر ہے کہ یا شیخ عبد القادر جیلانی تو کہتے ہیں یا محمد ﷺ ، یا ابوبکر