فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xlv of 611

فقہ المسیح — Page xlv

حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب آپ سے سوال کیا گیا کہ یہ جو مسئلہ ہے کہ جب چوہا یا بتی یا مرغی یا بکری یا آدمی کنوئیں میں مر جائیں تو اتنے ڈلو (ڈول) پانی نکالنا چاہئے۔اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟ کیونکہ پہلے تو ہمارا یہی عمل تھا کہ جب تک رنگ ، بو، مزانہ بدلے پانی کو پاک سمجھتے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا ”ہمارا تو وہی مذہب ہے جو احادیث میں آیا ہے یہ جو حساب ہے کہ اتنے دلو نکالو اگر فلاں جانور پڑے اور اتنے اگر فلاں پڑے، یہ ہمیں تو معلوم نہیں اور نہ اس 66 پر ہمارا عمل ہے۔“ عرض کیا گیا کہ حضور نے فرمایا ہے جہاں سنت صحیحہ سے پتا نہ ملے وہاں فقہ حنفی پر عمل کرلو۔فرمایا ”فقہ کی معتبر کتابوں میں بھی کب ایسا تعین ہے ہاں نجات المومنین میں لکھا ہے۔سواس میں تو یہ بھی لکھا ہے۔سر ٹوٹے وچ دے کے بیٹھ نماز کرے کیا اس پر کوئی عمل کرتا ہے اور کیا یہ جائز ہے جبکہ حیض و نفاس کی حالت میں نماز منع ہے۔پس ایسا ہی یہ مسئلہ بھی سمجھ لو۔میں تمہیں ایک اصل بتا دیتا ہوں کہ قرآنِ مجید میں آیا ہے وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ (المدثر: ۶) جب پانی کی حالت اس قسم کی ہو جائے جس سے صحت کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صاف کر لینا چاہئے۔مثلاً پتے پڑ جاویں یا کیڑے وغیرہ۔( حالانکہ اس پر یہ ملاں نجس ہونے کا فتویٰ نہیں دیتے ) باقی یہ کوئی مقدار مقر ر ہیں۔جب تک رنگ و بو ومزانجاست سے نہ بدلے وہ پانی پاک ہے۔“ ( بدر یکم اگست 1907 صفحه 12 ) 23 23