فقہ المسیح — Page 391
فقه المسيح قل خوانی 391 بدعات اور بد رسومات سوال :۔میت کے قل جو تیسرے دن پڑھے جاتے ہیں ان کا ثواب اسے پہنچتا ہے یا نہیں؟ جواب : قل خوانی کی کوئی اصل۔۔۔۔شریعت میں نہیں ہے صدقہ ، دعا اور استغفار میت کو پہنچتے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ ملا نوں کو اس سے ثواب پہنچ جاتا ہے سوا گر ا سے ہی مردہ تصور کرلیا جاوے ( اور واقعی ملاں لوگ روحانیت سے مردہ ہی ہوتے ہیں ) تو ہم مان لیں گے۔ہمیں تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسی باتوں پر امید کیسے باندھ لیتے ہیں دین تو ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے اس میں ان باتوں کا نام تک نہیں صحابہ کرام بھی فوت ہوئے کیا کسی کے قل پڑھے گئے صد ہا سال کے بعد اور بدعتوں کی طرح یہ بھی ایک بدعت نکل آئی ہوئی ہے۔میت کے لئے فاتحہ خوانی (البدر 16 مارچ 1904 صفحہ 6،5) سوال : میت کے لئے فاتحہ خوانی کے لئے جو بیٹھتے ہیں اور فاتحہ پڑھتے ہیں؟ جواب : فرمایا یہ درست نہیں ہے۔بدعت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ اس طرح صف بچھا کر بیٹھتے اور فاتحہ خوانی کرتے تھے۔(البدر 16 مارچ 1904 صفحہ 6) ختم اور فاتحہ خوانی ایک بزرگ نے عرض کی کہ حضور میں نے اپنی ملازمت سے پہلے یہ منت مانی تھی کہ جب میں ملا زم ہو جاؤں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حساب سے نکال کر اس کا کھانا پکوا کر حضرت پیران پیر کا ختم دلاؤں گا۔اس کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا کہ:۔خیرات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جائز ہے اور جسے چاہے انسان دے مگر اس فاتحہ خوانی سے ہمیں نہیں معلوم کیا فائدہ؟ اور یہ کیوں کیا جاتا ہے؟ میرے خیال میں یہ جو ہمارے ملک میں رسم