فقہ المسیح — Page 389
فقه المسيح 389 بدعات اور بد رسومات ہوئی۔ہم آپ کو ایسی بات بتاتے ہیں جس میں مستقل لذت پیدا ہو گی جو پھر جد ا نہیں ہوگی۔وہ اتباع سنت اور اسوۂ حسنہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کی غرض خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے۔ان فانی لذتوں کے پیچھے نہ پڑو۔پھر فرمایا۔نماز خشوع و خضوع سے پڑھنی چاہئے۔منہیات سے پر ہیز ضروری ہے۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 67 68 بدعات سے روکنے کے لئے ناجائز طریق اختیار نہ کرو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں الہ دین فلاسفر اور پھر اس کے بعد مولوی یار محمد صاحب کو ایک زمانہ میں قبروں کے کپڑے اتار لینے کی دھت ہوگئی تھی یہاں تک کہ فلاسفر نے ان کو بیچ کر کچھ روپیہ بھی جمع کر لیا۔ان لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح ہم بدعت اور شرک کو مٹاتے ہیں۔حضرت صاحب نے جب سُنا تو اس کام کو نا جائز فرمایا۔تب یہ لوگ باز آئے اور وہ روپیہ اشاعت اسلام میں دے دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسلام نے نہ صرف ناجائز کاموں سے روکا ہے بلکہ جائز کاموں کے لئے ناجائز وسائل کے اختیار کرنے سے بھی روکا ہے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 780) بعض رسوم فوائد بھی رکھتی ہیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ اس ملک میں مرنے جینے اور شادی بیاہ وغیرہ کی جو رسوم رائج ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو اہل حدیث کی طرح کلی طور پر رڈ نہیں کر دیتے تھے بلکہ سوائے ان رسوم کے جو مشرکانہ یا مخالف اسلام ہوں باقی میں کوئی نہ کوئی تو جیہ فوائد کی نکال لیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اِس اِس فائدہ یا ضرورت کے لئے یہ رسم ایجاد ہوئی۔مثلاً