فقہ المسیح — Page 379
فقه المسيح نظر بتو 379 بدعات اور بد رسومات یہ بھی میں دیکھتا ہوں کہ اولیاء اللہ میں کسی ایسی بات کا ہونا بھی سنت اللہ میں چلا آتا ہے۔جیسا کہ خوبصورت بچے کو جب ماں عمدہ لباس پہنا کر باہر نکالتی ہے تو اس کے چہرے پر ایک سیاہی کا داغ بھی لگا دیتی ہے تا کہ وہ نظر بد سے بچا رہے۔ایسا ہی خدا بھی اپنے پاکیزہ بندوں کے ظاہری حالات میں ایک ایسی بات رکھ دیتا ہے جس سے بدلوگ اس سے دور رہیں اور صرف نیک لوگ اس کے گرد جمع رہیں۔سعید آدمی چہرے کی اصلی خوبصورتی کو دیکھتا ہے اور شقی کا دھیان اس داغ کی طرف رہتا ہے۔امرتسر کا واقعہ ہے۔ایک دعوت میں چند مولوی شریک تھے اور صاحب مکان نے مجھے بھی بلایا ہوا تھا۔چائے لائی گئی۔میں نے پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑ لی۔تب سب نے اعتراض کیا کہ یہ سنت کے برخلاف کام کرتا ہے۔میں نے کہا۔یہ سنت ہے کہ پیالی دائیں ہاتھ سے پکڑی جائے مگر کیا یہ سنت نہیں لَا تَقْفُ مَالَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرائیل : 37) یعنی جس بات کا تجھے علم نہیں اس کے متعلق اپنی زبان نہ کھول۔کیا آپ لوگوں کو مناسب نہ تھا کہ مجھ پر حسن ظن کرتے اور خاموش رہتے۔یا یہ نہیں ہو سکتا تھا تو اعتراض کرنے سے پہلے مجھے سے پوچھ ہی لیتے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ پھر میں نے بتلایا کہ اصل بات یہ ہے کہ میرے دائیں بازو کی ہڈی بچپن سے ٹوٹی ہوئی ہے اور پیالی پکڑ کر میں ہاتھ کو اوپر نہیں اُٹھا سکتا۔جب یہ بات انہیں بتلائی گئی ، تب وہ سن کر شرمندہ ہو گئے۔صوفیاء کے طریقوں کو حسن ظنی سے دیکھنا ( بدر 17 نومبر 1905 ءصفحہ 7 ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خاکسار کے قیام قادیان کے دنوں میں عشاء کی