فقہ المسیح — Page 378
فقه المسيح 378 بدعات اور بد رسومات ہے مگر میرا مذ ہب یہ ہے کہ ہر ایک شخص کو مقام اور محل دیکھنا چاہیے۔ایک شخص کو جو اپنے اندر بہت سے علوم رکھتا ہے اور تقویٰ کے علامات اس میں پائے جاتے ہیں اور متقی باخدا ہونے کی ہزار دلیل اس میں موجود ہے۔صرف ایک بات جو تمہیں سمجھ میں نہیں آتی اس کی وجہ سے اُسے برا نہ کہو۔اس طرح انسان محروم رہ جاتا ہے۔بایزید بسطامی کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ لوگ بہت ان کے گرد ہوئے اور ان کے وقت کو پراگندہ کرتے تھے۔رمضان کا مہینہ تھا۔انہوں نے سب کے سامنے روٹی کھانی شروع کر دی۔تب سب لوگ کافر کہہ کر بھاگ گئے۔عوام واقف نہ تھے کہ یہ مسافر ہے اور اس کے واسطے روزہ ضروری نہیں۔لوگ نفرت کر کے بھاگے۔ان کے واسطے عبادت کے لیے مقام خلوت حاصل ہو گیا۔یہ اسرار ہیں اور ان کے واسطے ایک عمدہ مثال خود قرآن شریف میں موجود ہے جہاں حضرت خضر نے ایک کشتی تو ڑ ڈالی اور ایک لڑکے کو قتل کر دیا۔کوئی ظاہر شریعت ان کو ایسے کام کی اجازت نہ دے سکتی تھی۔اس قصہ سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔خضری اسراراس امت میں ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام کمالات متفرقہ کے جامع تھے اور ظلی طور پر وہ کمالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں موجود ہیں۔جو خضر نے کیا آئندہ صاحبان کمالات بھی حسب ضرورت کرتے ہیں۔جہاں حضرت خضر نے ایک نفس زکیہ کو قتل کر دیا اس کے بالمقابل مزامیر کیا شے ہے۔لہذا جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔جلد بازی انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔دوسری علامات کو دیکھنا چاہیے جو اولیاء الرحمن میں پائی جاتی ہیں ، ان لوگوں کا معاملہ بہت نازک ہوتا ہے۔اس میں بڑی احتیاط لازم ہے۔جو اعتراض کرے گا وہ مارا جائے گا۔تعجب ہے کہ زبان کھولنے والے خود گندے لوگ ہوتے ہیں اور ان کے دل ناپاک ہوتے ہیں اور پھر بزرگوں پر اعتراض کرتے ہیں۔( بدر 17 نومبر 1905 ءصفحہ 7)