فقہ المسیح — Page 368
فقه المسيح 368 حلت و حرمت تمباکونوشی کے مضر اثرات ایک شخص نے امریکہ سے تمباکونوشی کے متعلق اس کے بہت سے مجرب نقصان ظاہر کرتے ہوئے اشتہار دیا۔اس کو آپ نے سنا فر مایا: اصل میں ہم اس لئے اسے سنتے ہیں کہ اکثر نو عمراڑ کے نو جوان تعلیم یافتہ بطور فیشن ہی کے اس بلا میں گرفتار و مبتلا ہو جاتے ہیں تا وہ ان باتوں کو سن کر اس مضر چیز کے نقصانات سے بچیں۔فرمایا: اصل میں تمبا کو ایک دھواں ہوتا ہے جو اندرونی اعضاء کے واسطے مضر ہے۔اسلام لغو کاموں سے منع کرتا ہے اور اس میں نقصان ہی ہوتا ہے۔لہذا اس سے پر ہیز ہی اچھا ہے۔الحکم 28 فروری 1903 صفحہ 16 ) سوال:۔ایک دوست نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيْطِينِ (بنی اسرائیل : 28) اور تمباکو نوشی بھی تو فضول خرچی ہی ہے، اس کو حرام قرار دینا چاہئے؟ اس سوال کے جواب میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی فرماتے ہیں: آپ بے شک حرام قرار دے دیں۔میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتویٰ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مکروہ اور نا پسندیدہ قرار دیا ہے۔اس لئے ہم بھی اس فتویٰ کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں دے سکتے۔آپ جانتے ہیں کہ چلتی ہوئی ریل کو یکدم روکا نہیں جا سکتا۔آہستہ آہستہ ہی اسے روکا جاسکتا ہے۔اسی طرح یہ سگریٹ کی ریل جس میں سے دھواں نکلتا ہے آہستہ آہستہ ہی رکے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سخت مضر صحت چیز ہے اور اعصاب پر اس کا بہت بُرا اثر پڑتا ہے لیکن اس وقت ایک رواس کی تائید میں چل رہی ہے۔اس لئے لوگ اس رو میں بہہ کر اس کا استعمال کرتے جارہے ہیں۔جب اس کے خلاف رو زیادہ طاقتور ہو جائے گی تو لوگ خود بخو داس سے نفرت کرنے لگ جائیں گے۔الفضل 5 نومبر 1960 ، صفحہ 4)