فقہ المسیح — Page 359
فقه المسيح 359 حلت و حرمت دجال نے اپنی کوششوں میں تو کمی نہیں رکھی کہ دنیا کوفسق و فجور سے بھر دے مگر آگے خدا کے ہاتھ میں ہے جو چاہے کرے۔اسلام کی کیسی عظمت معلوم ہوتی ہے ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اسلام پر کوئی اعتراض کیا۔اس سے شراب کی بدبو آئی۔اس کو حد مارنے کا حکم دیا گیا کہ شراب پی کر اسلام پر اعتراض کیا۔مگر اب تو کچھ حد وحساب نہیں۔شراب پیتے ہیں۔زنا کرتے ہیں۔غرض کوئی بدی نہیں جو نہ کرتے ہوں مگر بایں ہمہ پھر اسلام پر اعتراض کرنے کو تیار ہیں۔حرمت خنزیر اور اس کی وجوہات فرمایا: الحكم 28 فروری 1903 ، صفحہ 15) خنزیر جو حرام کیا گیا ہے۔خدا نے ابتدا سے اس کے نام میں ہی حرمت کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ خنزیر کا لفظ ”خنز“ اور ”ار“ سے مرکب ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ میں اس کو بہت فاسد اور خراب دیکھتا ہوں۔خنز کے معنے بہت فاسد اور ار کے معنے دیکھتا ہوں۔پس اس جانور کا نام جو ابتداء سے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملا ہے وہی اس کی پلیدی پر دلالت کرتا ہے اور عجیب اتفاق یہ ہے کہ ہندی میں اس جانور کو سور کہتے ہیں۔یہ لفظ بھی سوء اور ار سے مرکب ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ میں اس کو بہت برا دیکھتا ہوں اور اس سے تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ سوء کا لفظ عربی کیونکر ہوسکتا ہے۔کیونکہ ہم نے اپنی کتاب مـــن الرحمن میں ثابت کیا ہے کہ تمام زبانوں کی ماں عربی زبان ہے اور عربی کے لفظ ہر ایک زبان میں نہ ایک دو بلکہ ہزاروں ملے ہوئے ہیں۔سوسوء عربی لفظ ہے۔اسی لئے ہندی میں سوء کا ترجمہ بد ہے۔پس اس جانور کو بد بھی کہتے ہیں۔اس میں کچھ بھی شک معلوم نہیں ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ تمام دنیا کی زبان عربی تھی۔اس ملک میں یہ نام اس جانور کا عربی میں مشہور تھا جو خنزیر کے نام کے ہم معنی ہے پھر اب تک یاد گار باقی رہ گیا۔ہاں یہ ممکن ہے کہ شاستری میں اس کے قریب قریب یہی لفظ متغیر ہو کر اور کچھ بن گیا ہومگر صحیح لفظ یہی ہے کیونکہ اپنی وجہ تسمیہ ساتھ رکھتا ہے۔