فقہ المسیح — Page 352
فقه المسيح 352 حکومت کی اطاعت اور اس کے ساتھ شرارت اور ایذا رسانی نہ ہو، تو وہ اس دنیا میں عذاب کا موجب نہیں ہوتا۔رشوت کی تعریف (احکام 17 اگست 1902 صفحہ 9) حضرت مولانا نورالدین صاحب نے عرض کی کہ حضور ایک سوال اکثر آدمی دریافت کرتے ہیں کہ اُن کو بعض وقت ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ جب تک وہ کسی اہلکار وغیرہ کو کچھ نہ دیں، اُن کا کام نہیں ہوتا۔فرمایا: میرے نزدیک رشوت کی یہ تعریف ہے کہ کسی کے حقوق کو زائل کرنے کے واسطے یا نا جائز طور پر گورنمنٹ کے حقوق کو دبانے یا لینے کے لیے کوئی ما بہ الاحتفاظ کسی کو دیا جائے لیکن اگر ایسی صورت ہو کہ کسی دوسرے کا اس سے کوئی نقصان نہ ہو اور نہ کسی دوسرے کا کوئی حق ہو صرف اس لحاظ سے کہ اپنے حقوق کی حفاظت میں کچھ دے دیا جاوے تو کوئی حرج نہیں اور یہ رشوت نہیں، بلکہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ہم راستہ پر چلے جاویں اور سامنے کوئی کتا آ جاوے تو اس کو ایک ٹکڑا روٹی کا ڈال کر اپنے طور پر جاویں اور اس کے شر سے محفوظ رہیں۔گورنمنٹ کے حقوق تلف نہ ہوں (الحکم 17 راگست 1902 ءصفحہ 8) رشوت ہرگز نہیں دینی چاہیے۔یہ سخت گناہ ہے مگر میں رشوت کی یہ تعریف کرتا ہوں کہ جس سے گورنمنٹ یا دوسرے لوگوں کے حقوق تلف کیے جاویں۔میں اس سے سخت منع کرتا ہوں لیکن ایسے طور پر بطور نذرانہ یا ڈالی اگر کسی کو دی جاوے جس سے کسی کے حقوق کا اتلاف مدنظر نہ ہو بلکہ اپنی حق تلفی اور شر سے بچنا مقصود ہو تو یہ میرے نزدیک منع نہیں ہے اور میں اس کا نام رشوت نہیں رکھتا۔کسی کے ظلم سے بچنے کو شریعت منع نہیں کرتی بلکہ لَا تُلْقُوا