فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 611

فقہ المسیح — Page 343

فقه المسيح 343 حکومت کی اطاعت نکلے ہیں نہ سنان وتفنگ لے کر۔اس لیے اس میدان میں ہم کو جو ہتھیار لے کر نکلنا چاہیے ، وہ قلم اور صرف قلم ہے۔ہمارے نزدیک ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس جنگ میں شریک ہو جاوے۔اللہ اور اس کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دل آزار حملے کیے جاتے ہیں کہ ہمارا تو جگر پھٹ جاتا اور دل کانپ اٹھتا ہے۔کیا امہات المومنین یا دربار مصطفائی کے اسرار جیسی گندی کتاب دیکھ کر ہم آرام کر سکتے ہیں، جس کا نام ہی اس طرز پر رکھا گیا ہے جیسے ناپاک ناولوں کے نام ہوتے ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ دربارلندن کے اسرار جیسی کتابیں تو گورنمنٹ کے اپنے علم میں بھی اس قابل ہوں کہ ان کی اشاعت بند کی جائے مگر آٹھ کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والی کتاب کو نہ روکا جائے۔ہم خود گورنمنٹ سے اس قسم کی درخوست کرنا ہرگز ہرگز نہیں چاہتے بلکہ اس کو بہت ہی نامناسب خیال کرتے ہیں۔جیسا کہ ہم نے اپنے میموریل کے ذریعہ سے واضح کر دیا تھا لیکن یہ بات ہم نے محض اس بنا پر کہی ہے کہ بجائے خود گورنمنٹ کا اپنا فرض ہے کہ وہ ایسی تحریروں کا خیال رکھے۔بہر حال گورنمنٹ نے عام آزادی دے رکھی ہے کہ اگر عیسائی ایک کتاب اسلام پر اعتراض کرنے کی غرض سے لکھتے ہیں تو مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ اس کا جواب لکھنے اور عیسائی مذہب کی تردید میں کتابیں لکھنے کا اختیار ہے۔۔۔ہماری جماعت یا در کھے کہ ہم ہندوستان کو بلحاظ حکومت ہرگز ہرگز دارالحرب قرار نہیں دیتے بلکہ اس امن اور برکات کی وجہ سے جو اس حکومت میں ہم کو ملی ہیں اور اس آزادی کو جو اپنے مذہب کے ارکان کی بجا آوری اور اس کی اشاعت کے لیے گورنمنٹ نے ہم کو دے رکھی ہے۔ہمارا دل عطر کے شیشہ کی طرح وفاداری اور شکر گذاری کے جوش سے بھرا ہوا ہے لیکن پادریوں کی وجہ سے ہم اس کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔پادریوں نے چھ کروڑ کے قریب کتابیں اسلام کے خلاف شائع کی ہیں۔میرے نزدیک وہ لوگ مسلمان نہیں ہیں جو ان حملوں کو دیکھیں اور سنیں اور اپنے ہی ہم و غم میں مبتلار ہیں۔اس وقت جو کچھ کسی سے ممکن ہو، وہ اسلام کی تائید