فقہ المسیح — Page 331
فقه المسيح 331 سود، انشورنس اور بینکنگ گا یہ احمدی عقیدہ ہوگا۔یہ نہیں کہ دوسرے علماء کیا کہتے ہیں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔ہمارے سلسلہ کے بانی نے یہ رکھا ہے کہ سود اپنی ذات میں بہر حال حرام ہے۔ترکوں نے پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ بنکوں کا سود سود نہیں۔حنفی علماء کا فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں چونکہ انگریزوں کی حکومت ہے اور یہ حربی ملک ہے اس لئے غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اب تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ کوئی یہ مسئلہ پوچھتا ہی نہیں۔لوگ کثرت سے سود لیتے اور دیتے ہیں۔ہم کہتے ہیں چاہے بنگ کا سود ہو چاہے دوسرا دونوں حرام ہیں۔لیکن بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک فیصلہ کیا ہے جو اسلام کے دوسرے مسائل سے مستنبط ہوتا ہے۔ایک حالت انسان پر ایسی بھی آتی ہے جب وہ کسی بلا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس سے بچنے کے لئے یہ کہنا کہ فلاں چیز جائز ہے اور فلاں ناجائز یہ فضول بات ہے۔مثلاً ایک آدمی گند میں گر جائے جو کئی گز میں پھیلا ہوا اور اسے کہا جائے کہ گند میں چلنا منع ہے تو وہ کس طرح اس گند سے نکل سکے گا۔بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ رکھا ہے کہ اگر کوئی اس لئے سود لے کہ سود کی بلا سے بچ جائے تو وہ لے سکتا ہے۔مثلاً ایک جگہ وہ بیس فیصدی سودا دا کرتا ہے۔اگر اسے پانچ فیصدی سود پر بنک سے روپیہ مل سکتا ہے تو وہ لے لے۔اس طرح امید ہوسکتی ہے کہ وہ سود کی بلا سے بچ سکے۔بیمہ زندگی الفضل 25 جنوری 1929 ، صفحہ 6) حضرت خلیفہ المسح الشاخی فرماتے ہیں :۔بیمہ کی وہ ساری کی ساری اقسام جو اس وقت تک ہمارے علم میں آچکی ہیں نا جائز ہیں۔ہاں اگر کوئی کمپنی یہ شرط کرے کہ بیمہ کرانے والا کمپنی کے فائدہ اور نقصان میں شامل ہوگا تو پھر بیمہ کرانا جائز ہو سکتا ہے۔ہاں ایک طرح کا بیمہ جائز ہے اور وہ یہ کہ مجبورا کرانا پڑے جیسے بعض محکموں میں گورنمنٹ نے ضروری کر دیا ہے کہ ملازم بیمہ کرائیں۔یہ چونکہ اپنے اختیار کی بات