فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 611

فقہ المسیح — Page 317

فقه المسيح 317 خرید وفروخت اور کاروباری امور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ رہن نامہ جس کے رو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا باغ حضرت والدہ صاحبہ کے پاس رہن رکھا تھا میں نے دیکھا ہے۔وہ با قاعدہ رجسٹری شدہ ہے اور اس کی تاریخ 25 جون 1898ء ہے۔زر ر ہن پانچ ہزار روپیہ ہے جس میں سے ایک ہزار نقد درج ہے اور باقی بصورت زیورات ہے۔اس رہن میں حضرت صاحب کی طرف سے مندرجہ ذیل الفاظ درج ہیں۔اقرار یہ ہے کہ عرصہ میں سال تک فک الرہن مر ہو نہ نہیں کراؤں گا۔بعد میں سال مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زررہن دوں تب فک الرہن کرالوں۔ورنہ بعد انفصال میعاد بالا یعنی اکتیس سال کے بتیسویں سال میں مرہونہ بالا ان ہی روپیوں میں بیع الوفا ہو جائے گا اور مجھے دعوئی ملکیت کا نہیں رہے گا۔قبضہ اس کا آج سے کرا دیا ہے اور داخل خارج کرا دوں گا اور منافع مرہونہ بالا کی قائمی رہن تک مرتہنہ مستحق ہے اور معاملہ سرکاری فصل خریف 1955 ( بکرمی ) سے مرتہنہ دے گی اور پیداوار لے گی۔“ 66 خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ عبارت ظاہر کرتی ہے کہ اس کے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تجویز کردہ نہیں ہیں بلکہ کسی وثیقہ نویس نے حضرت صاحب کے منشاء کو اپنے الفاظ میں لکھ دیا ہے۔زمین کی تقسیم کے لئے قرعہ ڈالنا (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 338) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے پیر افتخار احمد صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے کہ میں نے دیکھا کہ مرزا نظام الدین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوچہ بندی میں کھڑے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ڈیوڑھی سے نکلے اور آپ کے ہاتھ میں دو بند لفافے تھے۔یہ لفافے آپ نے مرزا نظام الدین کے