فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 611

فقہ المسیح — Page 316

فقه المسيح 316 خرید وفروخت اور کاروباری امور خاکسار عرض کرتا ہے کہ رہن کے متعلق میعاد کو عموما فقہ والے جائز قرار نہیں دیتے۔سو اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قول کی اہل فقہ کے قول سے تطبیق کی ضرورت سمجھی جاوے تو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ گویا حضرت صاحب نے میعاد کو رہن کی شرائط میں نہیں رکھا بلکہ اپنی طرف سے یہ بات زائد بطور احسان ومروت کے درج کرا دی کیونکہ ہر شخص کو حق ہے کہ بطور احسان اپنی طرف سے جو چاہے دوسرے کو دے دے۔مثلاً یہ ،۔شریعت کا مسئلہ ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو کچھ قرض دے تو اصل سے زیادہ واپس نہ مانگے کیونکہ یہ سود ہو جاتا ہے۔لیکن بایں ہمہ اس بات کو شریعت نے نہ صرف جائز بلکہ پسندیدہ قرار دیا ہے کہ ہو سکے تو مقروض روپیہ واپس کرتے ہوئے اپنی خوشی سے قارض کو اصل رقم سے کچھ زیادہ دے دے۔علاوہ ازیں خاکسار کو یہ بھی خیال آتا ہے کہ گو شریعت نے رہن میں اصل مقصود ضمانت کے پہلو کو رکھا ہے اور اسی وجہ سے عموما فقہ والے رہن میں میعاد کو تسلیم نہیں کرتے لیکن شریعت کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ بعض اوقات ایک امر ایک خاص بات کو ملحوظ رکھ کر جاری کیا جاتا ہے۔مگر بعد اس کے جائز ہو جانے کے اس کے جواز میں دوسری جہات سے بھی وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً سفر میں نماز کا قصر کرنا دراصل مبنی ہے اس بات پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں سفروں میں نکلتے تھے تو چونکہ دشمن کی طرف سے خطرہ ہوتا تھا۔اس لئے نماز کو چھوٹا کر دیا گیا۔لیکن جب سفر میں ایک جہت سے نماز قصر ہوئی تو پھر اللہ نے مومنوں کے لئے اس قصر کو عام کر دیا اور خوف کی شرط درمیان سے اُٹھالی گئی۔پس گورہن کی اصل بنیا د ضمانت کے اصول پر ہے لیکن جب اس کا دروازہ کھلا تو باری تعالیٰ نے اس کو عام کر دیا مگر یہ فقہ کی باتیں ہیں جس میں رائے دینا خاکسار کا کام نہیں۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 264،263)