فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 611

فقہ المسیح — Page 313

فقه المسيح 313 خرید وفروخت اور کاروباری امور یہ روپیہ جو اُن کو وہ دیتا ہے سود نہیں ہے۔اور میں اس کے جواز کا فتویٰ دیتا ہوں۔سود کا لفظ تو اس روپیہ پر دلالت کرتا ہے جو مفت بلا محنت کے (صرف روپیہ کے معاوضہ میں ) لیا جاتا ہے۔اب اس ملک میں اکثر مسائل زیروز بر ہو گئے ہیں۔کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔البدر یکم و 8 نومبر 1904 ، صفحہ 8) نیک نیتی میں برکت ہے ایک زرگر کی طرف سے سوال ہوا کہ پہلے ہم زیوروں کے بنانے کی مزدوری کم لیتے تھے اور ملاوٹ ملا دیتے تھے۔اب ملاوٹ چھوڑ دی ہے اور مزدوری زیادہ مانگتے ہیں تو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری وہی دینگے جو پہلے دیتے تھے تم ملاوٹ ملالو۔ایسا کام ہم ان کے کہنے سے کریں یا نہ کریں؟ فرمایا: کھوٹ والا کام ہرگز نہیں کرنا چاہئے اور لوگوں کو کہہ دیا کرو کہ اب ہم نے تو بہ کر لی ہے جو ایسا کہتے ہیں کہ کھوٹ ملا دو وہ گناہ کی رغبت دلاتے ہیں۔پس ایسا کام اُن کے کہنے پر بھی ہر گز نہ کرو۔برکت دینے والا خدا ہے اور جب آدمی نیک نیتی کے ساتھ ایک گناہ سے بچتا ہے تو خدا ضرور برکت دیتا ہے۔رہن رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اُٹھانا جائز ہے الحکم 24 اپریل 1903 ، صفحہ 10 ) رہن کے متعلق سوال ہوا۔آپ نے فرمایا: موجودہ تجاویز رہن جائز ہیں گذشتہ زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر فصل ہو گئی تو حکام زمینداروں سے معاملہ وصول کر لیا کرتے تھے اگر نہ ہوتی تو معاف ہو جا تا اور اب خواہ فصل ہو یا نہ ہو حکام اپنا مطالبہ وصول کر ہی لیتے ہیں پس چونکہ حکام وقت اپنا مطالبہ کسی صورت میں نہیں چھوڑتے تو اسی طرح یہ رہن بھی جائز رہا کیونکہ کبھی فصل ہوتی اور کبھی نہیں ہوتی تو دونوں