فقہ المسیح — Page 292
فقه المسيح 292 طلاق ملال ہوا اور فرمایا: مجھے اس قدر غصہ ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا اور ہماری جماعت میں ہو کر پھر یہ ظالمانہ طریق اختیار کرنا سخت عیب کی بات ہے۔چنانچہ دوسرے دن پھر حضور علیہ السلام نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ وہ صاحب اپنی اس نئی یعنی دوسری بیوی کو علیحدہ مکان میں رکھیں جو کچھ زوجہ اول کو دیویں وہی اسے دیو میں ایک شب اُدھر رہیں تو ایک شب ادھر رہیں اور دوسری عورت کوئی لونڈی غلام نہیں ہے بلکہ بیوی ہے اُسے زوجہ اول کا دست نگر کر کے نہ رکھا جاوے۔ایسا ہی ایک واقعہ اس سے پیشتر کئی سال ہوئے گزر چکا ہے کہ ایک صاحب نے حصول اولاد کی نیت سے نکاح ثانی کیا اور بعد نکاح رقابت کے خیال سے زوجہ اول کو جو صدمہ ہوا اور نیز خانگی تنازعات نے ترقی پکڑی تو انہوں نے گھبرا کر زوجہ ثانی کو طلاق دے دی۔اس پر حضرت اقدس نے ناراضگی ظاہر فرمائی۔چنانچہ اس خاوند نے پھر اس زوجہ کی طرف میلان کر کے اسے اپنے نکاح میں لیا اور وہ بیچاری بفضل خدا اس دن سے اب تک اپنے گھر میں آباد ہے۔شرطی طلاق فرمایا: ( البدر 26 جون 1903 ء صفحہ 178 ) اگر شرط ہو کہ فلاں بات ہو تو طلاق ہے اور وہ بات ہو جائے تو پھر واقعی طلاق ہو جاتی ہے۔جیسے کوئی شخص کہے کہ اگر فلاں پھل کھاؤں تو طلاق ہے اور پھر وہ پھل کھالے تو طلاق ہو جاتی ہے۔“ (البدر 12 جون 1903 صفحہ 162) حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ مباحثے کے دوران ایک موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: مولوی صاحب کا یہ عقیدہ کسی طرح بھی صحیح اور درست نہیں ہے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے۔ناظرین اسننے کے لائق یہ بات ہے کہ چونکہ قرآن شریف وحی متلو ہے اور تمام کلام