فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 611

فقہ المسیح — Page 284

فقه المسيح 284 طلاق طلاق طلاق کی اجازت دینے میں حکمت اگر کوئی عورت اذیت اور مصیبت کا باعث ہو تو ہم کو کیونکر یہ خیال کرنا چاہئے کہ خدا ہم سے ایسی عورت کے طلاق دینے سے ناخوش ہو گا۔میں دل کی سختی کو اس شخص سے منسوب کرتا ہوں جو اس عورت کو اپنے پاس رہنے دے نہ اس شخص سے جو اس کو ایسی صورتوں میں اپنے گھر سے نکال دے ناموافقت سے عورت کو رکھنا ایسی سختی ہے جس میں طلاق سے زیادہ بے رحمی ہے۔طلاق ایک مصیبت ہے جو ایک بدتر مصیبت کے عوض اختیار کی جاتی ہے۔تمام معاہدے بدعہدی سے ٹوٹ جاتے ہیں پھر اس پر کون سی معقول دلیل ہے کہ نکاح کا معاہدہ ٹوٹ نہیں سکتا۔اور کیا وجہ کہ نکاح کی نوعیت تمام معاہدوں سے مختلف ہے۔عیسی نے زنا کی شرط سے طلاق کی اجازت دی مگر آخر اجازت تو دیدی۔نکاح ملاپ کے لئے ہے اس لئے نہیں کہ ہم دائمی تردد اور نزاع کے باعث سے پریشان خاطر ر ہیں۔) آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 53-54 حاشیہ ) طلاق کا اختیار مرد کو کیوں دیا ؟ ( معترض نے۔ناقل ) ایک یہ اعتراض قرآن شریف پر پیش کیا کہ خاوند کی مرضی پر طلاق رکھی ہے، اس سے شاید اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ عقل کی رُو سے مرد اور عورت درجہ میں برابر ہیں تو پھر اس صورت میں طلاق کا اختیار محض مرد کے ہاتھ میں رکھنا بلا شبہ قابل اعتراض ہوگا۔پس اس اعتراض کا یہی جواب ہے کہ مرد اور عورت درجہ میں ہرگز برابر نہیں۔دنیا کے قدیم تجربہ نے یہی ثابت کیا ہے کہ مرد اپنی جسمانی اور علمی طاقتوں میں عورتوں سے بڑھ کر ہیں اور شاذ و نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے پس جب مرد کا درجہ باعتبار اپنے ظاہری اور باطنی قوتوں کے عورت سے بڑھ کر ہے تو پھر یہی قرین انصاف ہے کہ مرد اور عورت کے علیحدہ