فقہ المسیح — Page 278
فقه المسيح 278 نکاح نکاح کی مفصل اور مبسوط ہدایتیں قرآن میں نازل ہوئیں جو متعہ کے مخالف اور متضاد تھیں اس لئے ان آیات سے متعہ کی قطعی طور پر حرمت ثابت ہوگئی۔یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ گومتعہ صرف تین دن تک تھا مگر وحی اور الہام نے اس کے جواز کا دروازہ نہیں کھولا بلکہ وہ پہلے سے ہی عرب میں عام طور پر رائج تھا اور جب صحابہ کو بے وطنی کی حالت میں اس کی ضرورت پڑی تو آنحضرت نے دیکھا کہ متعہ ایک نکاح موقت ہے۔کوئی حرام کاری اس میں نہیں کوئی ایسی بات نہیں کہ جیسی خاوند والی عورت دوسرے سے ہم بستر ہو جاوے بلکہ در حقیقت بیوہ یا باکرہ سے ایک نکاح ہے جو ایک وقت تک مقرر کیا جاتا ہے تو آپ نے اس خیال سے کہ نفس متعہ میں کوئی بات خلاف نکاح نہیں۔اجتہادی طور پر پہلی رسم کے لحاظ سے اجازت دیدی لیکن خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ جیسا کہ اور صد با عرب کی بیہودہ رسمیں دور کر دی گئیں ایسا ہی متعہ کی رسم کو بھی عرب میں سے اٹھا دیا جاوے سوخدا نے قیامت تک متعہ کو حرام کر دیا۔ماسوا اس کے یہ بھی سوچنا چاہئے۔کہ نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت ہے نیوگ پر تو ہمارا یہ اعتراض ہے کہ اس میں خاوند والی عورت با وجود زندہ ہونے خاوند کے دوسرے سے ہم بستر کرائی جاتی ہے۔لیکن متعہ کی عورت تو کسی دوسرے کے نکاح میں نہیں ہوتی۔بلکہ ایک باکرہ یا بیوہ ہوتی ہے جس کا ایک مقررہ وقت تک ایک شخص سے نکاح پڑھا جاتا ہے۔سو خو د سوچ لو کہ متعہ کو نیوگ سے کیا نسبت ہے اور نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت۔آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 67 تا 70) اسلام نے متعہ کو رواج نہیں دیا عیسائیوں کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: نادان عیسائیوں کو معلوم نہیں کہ اسلام نے متعہ کو رواج نہیں دیا بلکہ جہاں تک ممکن تھا اس کو دنیا میں سے گھٹایا۔اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں متعہ کی