فقہ المسیح — Page 279
فقه المسيح 279 نکاح رسم تھی یعنی یہ کہ ایک وقت خاص تک نکاح کرنا پھر طلاق دے دینا اور اس رسم کے پھیلانے والے اسباب میں سے ایک یہ بھی سبب تھا کہ جو لوگ لشکروں میں منسلک ہو کر دوسرے ملکوں میں جاتے تھے یا بطریق تجارت ایک مدت تک دوسرے ملک میں رہتے تھے۔ان کو موقت نکاح یعنی متعہ کی ضرورت پڑتی تھی اور کبھی یہ بھی باعث ہوتا کہ غیر ملک کی عورتیں پہلے سے بتلا دیتی تھیں کہ وہ ساتھ جانے پر راضی نہیں اس لئے اس نیت سے نکاح ہوتا تھا کہ فلاں تاریخ طلاق دی جائے گی۔پس یہ سچ ہے کہ ایک دفعہ یا دو دفعہ اس قدیم رسم پر بعض مسلمانوں نے بھی عمل کیا۔مگر وحی اور الہام سے نہیں بلکہ جو قوم میں پرانی رسم تھی معمولی طور پر اس پر عمل ہو گیا لیکن متعہ میں بجز اس کے اور کوئی بات نہیں کہ وہ ایک تاریخ مقررہ تک نکاح ہوتا ہے اور وحی الہی نے آخر اس کو حرام کر دیا۔متبنی حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا ( نور القرآن نمبر 2۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 450) آریوں کے ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا : اب ہم ان آریوں کے اس پر افترا اعتراض کی بیخ کنی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو انہوں نے زینب کے نکاح کی نسبت تراشا ہے۔ان مفتری لوگوں نے اعتراض کی بنا دو باتیں ٹھہرائی ہیں (1) یہ کہ متبنی اگر اپنی جو رو کوطلاق دے دیوے تو متبنی کرنے والے کو اس عورت سے نکاح جائز نہیں (2) یہ کہ زینب آنحضرت کے نکاح سے ناراض تھی تو گویا آنحضرت نے زینب کے معقول عذر پر یہ بہانہ گھڑا کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے سو ہم ان دو باتوں کا ذیل میں جواب دیتے ہیں۔امراوّل کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ متبنی کرتے ہیں ان کا یہ دعوی سراسر لغو اور باطل ہے کہ وہ حقیقت میں بیٹا ہو جاتا ہے اور بیٹوں کے تمام احکام اس کے متعلق ہوتے ہیں۔