فقہ المسیح — Page 264
فقه المسيح 264 نکاح فقہاء نے اعلان بالدف کو نکاح کے وقت جائز رکھا ہے اور یہ اس لیے کہ پیچھے جو مقدمات ہوتے ہیں تو اس سے گویا ایک قسم کی شہادت ہو جاتی ہے۔ہم کو مقصود بالذات لینا چاہئے۔اعلان کے لئے یہ کام کیا جاتا ہے یا کوئی اپنی شیخی اور تعلقی کا اظہار مقصود ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض چپ چاپ شادیوں میں نقصان پیدا ہوئے ہیں۔یعنی جب مقدمات ہوئے ہیں تو اس قسم کے سوال اُٹھائے گئے ہیں۔غرض ان خرابیوں کو روکنے کے لیے اور شہادت کے لیے اعلان بالدف جائز ہے اور اس صورت میں باجا بجانا منع نہیں ہے، بلکہ نسبتوں کی تقریب پر جو شکر وغیرہ بانٹتے ہیں۔دراصل یہ بھی اسی غرض کے لیے ہوتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو خبر ہو جاوے اور پیچھے کوئی خرابی پیدا نہ ہو مگر اب یہ اصل مطلب مفقود ہو کر اس کی جگہ صرف رسم نے لے لی ہے اور اس میں بھی بہت سی باتیں اور پیدا کی گئی ہیں۔پس ان کو رسوم نہ قرار دیا جاوے بلکہ یہ رشتہ ناطہ کو جائز کرنے کے لیے ضروری امور ہیں۔یا درکھو جن امور سے مخلوق کو فائدہ پہنچتا ہے ، شرع اس پر ہرگز زد نہیں کرتی۔کیونکہ شرع کی خود یہ غرض ہے کہ مخلوق کو فائدہ پہنچے۔آتشبازی اور تما شا وغیرہ یہ بالکل منع ہیں، کیونکہ اس سے مخلوق کو کوئی فائدہ بجز نقصان کے نہیں ہے۔اور باجا بجانا بھی اسی صورت میں جائز ہے، جبکہ یہ غرض ہو کہ اس نکاح کا عام اعلان ہو جاوے اور نسب محفوظ رہے، کیونکہ اگر نسب محفوظ نہ رہے تو زنا کا اندیشہ ہوتا ہے۔جس پر خدا نے بہت ناراضی ظاہر کی ہے۔یہاں تک کہ زنا کے مرتکب کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے۔اس لیے اعلان کا انتظام ضروری ہے؛ البتہ ریا کاری فستق فجور کے لیے یا صلاح و تقویٰ کے خلاف کوئی منشا ہو تو منع ہے۔شریعت کا مدار نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : 287) با جا کے متعلق حرمت کا کوئی نشان بجز اس کے کہ وہ صلاح و تقویٰ کے خلاف اور ریا کاری اور فسق و فجور کے لیے ہے ، پایانہیں جاتا اور پھر اعلان بالدف کو فقہاء نے جائز رکھا ہے اور اصل اشیاء حلت ہے، اس لیے شادی میں