فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 611

فقہ المسیح — Page 263

فقه المسيح 263 مہر کی ادائیگی سے قبل مہر کی معافی نہیں ہو سکتی حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:۔نکاح عورت کو مہر ادا کئے جانے سے پہلے معافی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔وہ مال اس کا حق ہے اس کو پہلے وہ مال ملنا چاہئے۔پھر اگر وہ چاہے تو واپس کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ ہے۔آپ نے حکیم فضل دین صاحب مرحوم کے بیان کرنے پر کہ ان کی بیویوں نے مہر معاف کر دیا ہے۔فرمایا کہ پہلے ان کو مہر دے دو۔پھر وہ واپس دے دیں تو سمجھو کہ معاف کر دیا ہے۔جب انہوں نے روپیہ دیا تو بیویوں نے لے لیا اور کہا کہ اب تو ہم معاف نہیں کرتیں۔بعض فقہاء کا قول ہے کہ مہر دے کر فور ابھی واپس ہو جائے تو جائز نہیں کچھ مدت تک عورت کے پاس رہے۔تب واپس کرے تو جائز سمجھا جائے گا۔فرمودات مصلح موعود در بارہ فقہی مسائل صفحہ 209) ایک مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے تحریر فرمایا۔میں فیصلہ کرتا ہوں کہ مہر سالم پانچ سوروپیہ مدعیہ کو دلایا جائے کیونکہ شریعت کی رو سے عورت کا حق ہے اور بسا اوقات اس کی معافی بھی قابل تسلیم نہیں کیونکہ اس کی ایک رنگ میں ماتحت حالت اس کی معافی کی وقعت کو اصول شرعیہ کے رو سے بہت کچھ گرا دیتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ ہے۔پس قبل از ادائیگی مہر معافی کوئی حقیقت نہیں رکھتی خصوصا جبکہ ہمارے ملک میں عورتوں میں یہ عام خیال ہو کہ مہر صرف نام کا ہوتا ہے بلکہ بعض اس کی وصولی کو ہتک خیال کرتی ہیں۔فرمودات مصلح موعود دربارہ فقہی مسائل۔صفحہ 212) اعلان نکاح ضروری ہے میاں اللہ بخش صاحب امرتسری نے عرض کیا کہ حضور یہ جو براتوں کے ساتھ باجے بجائے جاتے ہیں۔اس کے متعلق حضور کیا حکم دیتے ہیں۔فرمایا: