فقہ المسیح — Page xxxii
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب اس الہام میں یہ پیغام دیا گیا کہ آپ کے ذریعے دین کا احیاء ہوگا اور شریعت کو اصل شکل میں قائم کیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے شریعت کے منافی تمام باتوں کی مناہی فرمائی اور انہیں بدعات قرار دے کر اپنی جماعت کو ان سے بچنے کی نصیحت کی۔فرمایا دکتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہورہا ہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النار ہے۔اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجز اس قانون کے جو مقرر ہے ادھر اُدھر بالکل نہ جاوے۔کسی کا کیا حق ہے کہ بار بار ایک شریعت بناوے۔ہمارا اصول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کتاب قرآن کے سوا اور طریق سنت کے سو انہیں۔اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا ( البدر 13 مارچ 1903 ، صفحہ 59) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال خیر کی راہ چھوڑ کر اپنے طریقے ایجاد کرنا اور قرآن شریف کی بجائے اور وظائف اور کافیاں پڑھنایا اعمال صالحہ کی بجائے قسم قسم کے ذکر اذکار نکال لینا یہ لذت روح کے لئے نہیں ہے بلکہ لذت نفس کے لئے ہے۔“ (الحکم 31 جولائی 1902 صفحہ 8) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو ہر طرح کی بدعات سے منع کرتے ہوئے اصل سنت کو اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی۔چنانچہ آپ نے قل خوانی ، فاتحہ خوانی ، چہلم ، مولود خوانی، تصور شیخ، اسقاط ، ختم ، دسویں محترم کی رسوم سمیت سب بد رسوم سے اپنی جماعت کو بیچنے کی نصیحت فرمائی اور خدا اور رسول کی محبت کو دل میں پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور صرف ظاہری مسائل پر ہی ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کے انداز کو نا پسند فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے ایمان دلوں میں قائم کرنے کے لئے بھیجا۔10