فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 611

فقہ المسیح — Page 262

فقه المسيح 262 حق مہر خاوند کی حیثیت کے مطابق ہو سوال :۔ایک عورت اپنا مہر نہیں بخشتی۔نکاح جواب :۔یہ عورت کا حق ہے اسے دینا چاہیے اول تو نکاح کے وقت ہی ادا کرے ورنہ بعد ازاں ادا کرنا چاہیے، پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر اپنا مہر خاوند کو بخش دیتی ہیں۔یہ صرف رواج ہے جو مروت پر دلالت کرتا ہے۔سوال :۔اور جن عورتوں کا مہر مچھر کی دومن چربی ہو وہ کیسے ادا کیا جاوے؟ جواب : - لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة :287) اس کا خیال مہر میں ضرور ہونا چاہیئے خاوند کی حیثیت کو مد نظر رکھنا چاہیئے اگر اس کی حیثیت دس روپے کی نہ ہو تو وہ ایک لاکھ روپے کا مہر کیسے ادا کریگا اور مچھروں کی چربی تو کوئی مہر ہی نہیں یہ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں داخل ہے۔واجب الا دا مہر کی ادائیگی لازمی ہے البدر 16 / مارچ 1904 صفحہ 6) ایک صاحب نے دریافت کیا کہ ایک شخص اپنی منکوحہ سے مہر بخشوانا چاہتا تھا مگر وہ عورت کہتی تھی تو اپنی نصف نیکیاں مجھے دے دے تو بخش دوں۔خاوند کہتا رہا کہ میرے پاس حسنات بہت کم ہیں بلکہ بالکل ہی نہیں ہیں۔اب وہ عورت مرگئی ہے خاوند کیا کرے؟ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ:۔اسے چاہیے کہ اس کا مہر اس کے وارثوں کو دے دے۔اگر اس کی اولاد ہے تو وہ بھی وارثوں میں شرعی حصہ لے سکتی ہے اور علی ہذا القیاس خاوند بھی لے سکتا ہے۔(البدر 5 مارچ 1905 ء صفحہ 2)