فقہ المسیح — Page 256
فقه المسيح 256 نکاح قرآنی حکم کے رو سے عورت اس سے طلاق لے سکتی ہے۔اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عذر نہیں کر سکتی کہ دوسری بیوی کیوں کی ہے۔کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی عورت ذمہ دار اور کار برار نہیں ہو سکتی اور اس سے مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کیلئے قائم رہتا ہے۔جو لوگ قوی الطاقت اور متقی اور پارسا طبع ہیں ان کیلئے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 282،281) تعدد ازدواج ، حکم نہیں بلکہ اجازت ہے ایک شخص نے اعتراض کیا کہ اسلام میں جو چار بیویاں رکھنے کا حکم ہے یہ بہت خراب ہے اور ساری بداخلاقیوں کا سرچشمہ ہے۔فرمایا: چار بیویاں رکھنے کا حکم تو نہیں دیا بلکہ اجازت دی ہے کہ چار تک رکھ سکتا ہے اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ چا رہی کو گلے کا ڈھول بنالے۔قرآن کا منشاء تو یہ ہے کہ چونکہ انسانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اس واسطے ایک سے لیکر چار تک اجازت دی ہے ایسے لوگ جو ایک اعتراض کو اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں اور پھر وہ خود اسلام کا دعوی بھی کرتے ہیں میں نہیں جانتا کہ ان کا ایمان کیسے قائم رہ جاتا ہے۔وہ تو اسلام کے معترض ہیں۔یہ نہیں دیکھتے کہ ایک مقنن کو قانون بنانے کے وقت کن کن باتوں کا لحاظ ہوتا ہے۔بھلا اگر کسی شخص کی ایک بیوی ہے اسے جذام ہو گیا ہے یا آتشک میں مبتلا ہے یا اندھی ہوگئی ہے یا اس قابل ہی نہیں کہ اولا داس سے حاصل ہو سکے وغیرہ وغیرہ عوارض میں مبتلا ہو جا وے تو اس حالت میں اب اس خاوند کو کیا کرنا چاہیئے کیا اسی بیوی پر قناعت کرے؟ ایسی مشکلات کے وقت کیا تدبیر پیش کرتے ہیں۔یا بھلا اگر وہ کسی قسم کی بد معاشی زنا وغیرہ میں مبتلا ہوگئی تو کیا اب اس خاوند کی غیرت تقاضا کرے گی کہ اسی کو اپنی پر عصمت بیوی کا خطاب دے رکھے؟ خدا جانے اسلام پر اعتراض کرتے وقت اندھے کیوں ہو جاتے ہیں۔یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں