فقہ المسیح — Page xxxi
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب طور پر آ گیا ہے یعنی وہ حدیثیں جن کو تعامل کے محکم اور قومی اور لا ریب سلسلہ نے ت دی ہے اور مرتبہ یقین تک پہنچا دیا ہے جس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور عقو داور معاملات اور احکام شرع متین داخل ہیں۔“ الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 35) 3۔انسانی اجتهاد پر حدیث فضیلت رکھتی ھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک طرف قرآن کریم کو حدیثوں کے پرکھنے کے لئے معیار قرار دیا اور سنت اور تعامل کو حدیث پر فوقیت دی اور اسے قطعی اور یقینی درجہ دیا۔دوسری طرف محدثین کے خود ساختہ معیار کے مطابق ضعیف قرار دی جانے والی احادیث کو بھی انسان کے اجتہاد اور فقہ پر ترجیح دی کیونکہ بہر حال وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتی ہیں اس حوالے سے آپ نے اپنی جماعت کو مندرجہ ذیل نصیحت فرمائی۔فرمایا: ”ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اُس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 212) 4۔شریعت کی اصل روح کا احیاء حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا: يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ ترجمہ: وہ دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 79) 9