فقہ المسیح — Page xxx
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل۔نیز فرمایا 66 ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 210،209) ان لوگوں کو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ سنت اور حدیث کو ایک ہی قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں الگ ہیں اور اگر حدیث جو آپ کے بعد ڈیڑھ سو دوسو برس بعد لکھی گئی نہ بھی ہوتی تب بھی سنت مفقود نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ یہ سلسلہ تو جب سے قرآن نازل ہونا شروع ہوا ساتھ ساتھ چلا آتا ہے اور حدیث وہ اقوال ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے اور پھر آپ کے بعد دوسری صدی میں لکھے گئے۔“ (الحکم 17 نومبر 1902 ، صفحہ 2) حضرت مسیح موعود نے حدیث کے مقابلے میں سنت اور تعامل کو بڑی اہمیت دی اور فرمایا:۔یہ ایک دھوکہ ہے کہ ایسا خیال کر لیا جائے کہ احادیث کے ذریعہ سے صوم وصلوٰۃ وغیرہ کی تفاصیل معلوم ہوئی ہیں بلکہ وہ سلسلہ تعامل کی وجہ سے معلوم ہوتی چلی آئی ہیں اور درحقیقت اس سلسلہ کو فن حدیث سے کچھ تعلق نہیں وہ تو طبعی طور پر ہر ایک مذہب کو لازم ہوتا ہے۔“ الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 26 ) آپ نے سنت اور تعامل کے باہمی تعلق کو واضح کر کے دکھایا اور سنت کی زیادہ اہمیت کی وجہ بتائی کہ اُسے سلسلہ تعامل نے حجت قوی بنا دیا ہے۔فرمایا احادیث کے دو حصّہ ہیں ایک وہ حصہ جو سلسلہ تعامل کی پناہ میں کامل 8