فقہ المسیح — Page 245
فقه المسيح 245 نکاح کچھ معلوم نہیں ہوا۔مگر ان میں سے کسی کے ساتھ میاں ظفر احمد صاحب کا رشتہ نہیں ہوا۔یہ مدت کی بات ہے۔ہم کفورشتہ بہتر ہے لیکن لازمی نہیں سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 241،240) ایک دوست کا سوال پیش ہوا کہ ایک احمدی اپنی ایک لڑکی غیر کفو کے ایک احمدی کے ہاں دینا چاہتا ہے حالانکہ اپنی کفو میں رشتہ موجود ہے۔اس کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: اگر حسب مرا درشتہ ملے تو اپنی کفو میں کرنا بہ نسبت غیر کفو کے بہتر ہے لیکن یہ امرایسا نہیں که بطور فرض کے ہو۔ہر ایک شخص ایسے معاملات میں اپنی مصلحت اور اپنی اولاد کی بہتری کو خوب سمجھ سکتا ہے۔اگر کفو میں وہ کسی کو اس لائق نہیں دیکھتا تو دوسری جگہ دینے میں حرج نہیں ور ایسے شخص کو مجبور کرنا کہ وہ بہر حال اپنی کفو میں اپنی لڑکی دیوے، جائز نہیں ہے۔اور نکاح طبعی اور اضطراری تقاضا ہے پادری فتح مسیح کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ( بدر 11 اپریل 1907 صفحہ 3) آپ حضرت عائشہ صدیقہ کا نام لے کر اعتراض کرتے ہیں کہ جناب مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن سے بدن لگانا اور زبان چوسنا خلاف شرع تھا۔اب اس ناپاک نصب پر کہاں تک روویں۔اے نادان! جو حلال اور جائز نکاح ہیں ان میں یہ سب باتیں جائز ہوتی ہیں۔یہ اعتراض کیسا ہے۔کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ہاں ! یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے کچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی