فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 611

فقہ المسیح — Page 238

فقه المسيح 238 قربانی کے مسائل ثابت ہے کہ آپ صحت کی حالت میں قربانی کر کے کھاتے تھے تاہم یہ کوئی ایسا روزہ نہیں کہ کوئی نہ رکھے تو گنہگار ہو جائے یہ کوئی فرض نہیں بلکہ نفلی روزہ ہے اور مستحب ہے جو رکھ سکتا ہو رکھے مگر جو بیمار، بوڑھا یا دوسرا بھی نہ رکھ سکے وہ مکلف نہیں اور نہ رکھنے سے گنہگار نہیں ہوگا مگر یہ بالکل بے حقیقت بھی نہیں جیسا کہ مولوی بقا پوری صاحب نے لکھا ہے میں نے صحت کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے پھر مسلمانوں میں یہ کثرت سے رائج ہے اور یہ یونہی نہیں بنا لیا گیا بلکہ مستحب نفل ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعامل رہا اور جس پر عمل کرنے والا ثواب پاتا ہے مگر جو نہ کر سکے اسے گناہ نہیں۔روزنامه الفضل 17 جنوری 1941 صفحہ 4) عقیقہ کس دن کرنا چاہیے؟ عقیقہ کی نسبت سوال ہوا کہ کس دن کرنا چاہیے؟ فرمایا:۔ساتویں دن۔اگر نہ ہو سکے تو پھر جب خدا توفیق دے۔ایک روایت میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ چالیس سال کی عمر میں کیا تھا۔ایسی روایات کو نیک ظن سے دیکھنا چاہیے جب تک قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے خلاف نہ ہوں۔( بدر 13 فروری 1908 صفحہ 10) حضرت مسیح موعود کا ایک دوست کی طرف سے عقیقہ کرنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان میں تقریباً ایک ماہ تک ٹھہرا رہا۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری بھی وہاں تھے۔مولوی صاحب نے میرے لئے جانے کی اجازت چاہی اور میں نے اُن کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی نہ جائیں۔اس عرصہ میں مولوی صاحب کو ان کے گھر سے لڑکے کی ولادت کا خط آیا۔جس پر مولوی صاحب نے عقیقہ کی غرض سے جانے کی اجازت چاہی۔حضور نے فرمایا۔اس غرض کے لئے جانا لازمی نہیں۔